انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 495

۴۹۵ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم انگلینڈ اور ہندوستان کے چِیدہ اصحاب کی آراء چونکہ گول میز کانفرنس میں مسائل ہند کے متعلق گفتگو شروع ہو چکی تھی اس لئے مسلمانوں کے حقوق اور مطالبات اور ان کی معقولیت سے سیاسی لیڈروں اور حکومت ہند اور برطانیہ کے ارکان کو آگاہ کرنے کے لئے اس کتاب کا انگریزی ایڈیشن انگلستان اور ہندوستان میں بکثرت مفت تقسیم کیا گیا- اس کتاب کا مطالعہ کرنے پر جو آراء ظاہر کی گئیں ہیں ان میں سے چند ایک بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں-: لارڈ میسٹن سابق گورنر یو- پی-: ‘’میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے امام جماعت احمدیہ کی نہایت دلچسپ تصنیف ارسال فرمائی ہے- میں نے قبل ازیں بھی ان کی چند تصنیفات دلچسپی سے پڑھی ہیں- مجھے امید ہے کہ اس کتاب کا پڑھنا میرے لئے خوشی اور فائدے کا موجب ہوگا-’‘ لفٹینٹ کمانڈر کینوردی ممبر پارلیمنٹ-: ‘’کتاب ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل’‘ کے ارسال فرمانے پر آپ کا بہت ممنون ہوں- میں نے اسے بہت دلچسپی سے پڑھا ہے-’‘ سر میلکم ہیلی (SIR MALCOLM HAILEY) گورنر صوبہ یو-پی و سابق گورنر پنجاب-: ‘’میرے پیارے مولوی صاحب (امام مسجد لندن) اس کتاب کے لئے جو آپ نے امام جماعت احمدیہ کی طرف سے میرے نام بھیجی ہے- میں آپ کا بہت ممنون ہوں- جماعت احمدیہ سے میرے پرانے تعلقات ہیں اور میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں- اور اس روح کو خوب سمجھتا ہوں اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جسے لیکر وہ ہندوستان کے اہم مسائل کے حل کے لئے کام کر رہی ہے- مجھے یقین ہے کہ