انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 455

۴۵۵ پکڑنے کے ساتھ ساتھ اس کی نمائندہ وزارت کے ہاتھ میں چلے جائیں گے اور اتحادیت خطرہ میں پڑ جائے گی- ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ آرڈیننس وغیرہ قسم کے اختیارات بربریت کی علامت ہیں انہیں یک دم مٹا دینا چاہئے لیکن میرے نزدیک یہ درست نہیں- آئرلینڈ کی آزادی کے موقع پر وہ لوگ جنہوں نے انگلستان کے ساتھ سمجھوتے میں حصہ نہیں لیا تھا، انہوں نے اس خیال سے کہ اس طرح ان کے وقار کو صدمہ پہنچا ہے اس سمجھوتے کی قیمت کو کم کر کے دکھانے کی پوری کوشش کی تھی- اور ملک میں ایسے فسادات پیدا کر دیئے تھے کہ جن کی مثال غالباً آزادی سے پہلے زمانہ میں بھی نہیں ملتی- ہندوستان میں بھی یہی صورت پیش آنے والی ہے- وہ لوگ جو راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے مخالف ہیں، اگر انہوں نے دیکھا کہ کانفرنس کامیاب ہو گئی ہے تو اپنی عزت کو خطرہ میں دیکھ کر وہ ہر اک ممکن کوشش ملک میں فساد پیدا کرنے کی کریں گے اور جب تک غیر معمولی طاقت سے ان کا مقابلہ نہ کیا جائے گا، ان کا فتنہ فرو نہ ہو سکے گا- پس اس زمانہ تک کہ حکومت نو آبادیات کے اصول پر خود ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائے غیر معمولی حالات کے لئے غیر معمولی اختیارات کا گورنر جنرل کے ہاتھ میں رہنا ضروری ہے ورنہ خواہ کسقدر بڑا حصہ آزادی کا ہندوستان کو مل جائے اس کے دشمن اسے تباہ کر کے چھوڑیں گے- یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس وقت سے برطانیہ نے ہندوستان کے لئے درجہ مستعمرات کا اعلان کیا، اسی وقت سے اس کے سیاسییں کا نقطئہ نگاہ بدل جائے گا اور وہ ایسے لوگوں کو ہندوستان کا گورنر جنرل کر کے بھیجیں گے کہ جو پوری طرح اسے درجہ مستعمرات کی طرف لے جانے والے ہونگے کیونکہ اس کے بعد خود اس کا فائدہ ہوگا کہ ہندوستان کی خوشنودی کو حاصل کرے- (۲) قانون ساز مجالس اس وقت ہندوستان میں دو مجلسیں ہیں- ایک اسمبلی (ASSEMBLY) کہلاتی ہے اور دوسری کونسل آف سٹیٹ- اس میں کوئی شک نہیں کہ کونسل آف سٹیٹ (COUNSIL OF STATE ) تنفیذ کرنے اور قانون کے اسمبلی میں پاس ہونے اور نافذ ہونے کے درمیان کچھ دیر لگانے کا موجب ہو کر اس بات کا سامان مہیا کر دیتی ہے کہ اگر ملک کو قانون ناپسند ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے لیکن اتحادی حکومت کے جو اصول ہیں ان کی حفاظت کا مقصد اس سے پورا نہیں ہوتا- اسی