انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 444

۴۴۴ رکھنا چاہئے- کیونکہ جس طرح یہ بات اصول کے خلاف ہے کہ اتحادی حکومت کی تکمیل صوبہجات کی آزادی سے پہلے کی جائے اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ صوبہ جات اس وقت تک آزاد ہو سکیں جب تک ان کے لئے آزادی کا ماحول پیدا نہ ہو- اگر ایک ایسی گورنمنٹ مرکزی موجود ہو جس کو آئندہ فیڈرل حکومت سے کوئی خاص دلچسپی نہ ہو اور اگر کوئی ایسا مقررہ راستہ نہ ہو جس پر چل کر آئندہ فیڈرل انتظام کو مکمل کیا جا سکے تو یقیناً اتحادی حکومت کا قیام ہندوستان کے لئے ناممکن ہو جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ صوبہ جاتی آزادی بھی خطرہ میں پڑ جائے- پس یہ نہایت ضروری ہے کہ مرکزی حکومت کو ایسے اصول پر قائم کیا جائے کہ اس کے ماتحت صوبہ جاتی حکومت کو آزادی کے حصول کا کافی موقع ہو اور اتحادی حکومت کی اس طرح داغ بیل ڈال دی جائے کہ آئندہ نظام بغیر کسی مشکل کے خود بخود مکمل ہوتا چلا جائے- (۱) ہندوستان کی درجہ نو آبادی والی حکومت اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے کہ اتحادی اصول پر حکومت کی بنیاد بھی قائم ہو جائے اور یہ خطرہ بھی نہ رہے کہ آئندہ ہندوستان کی آزادی کی تکمیل یا اس کی حکومت کی تشکیل میں کوئی دقت پیدا ہو میرے نزدیک یہ تجویز بہترین ہوگی کہ ہندوستان کو نو آبادیات کا درجہ ملنے کا فیصلہ تو ابھی ہو جائے اور آئندہ کیلئے فیڈریشن (FEDERATION) کا ڈھانچہ بھی تیار ہو جائے لیکن بعض تفصیلی امور جن کے اس وقت طے ہونے یا نہ ہونے کو فیڈریشن پر کچھ اثر نہیں پڑتا ان کی جگہ ایک عارضی ڈھانچہ حکومت کا تیار کر لیا جائے جو موجودہ ضروریات کو پورا کرنے والا ہو- پھر جوں جوں صوبے اپنے اندرونی انتظامات کو مکمل کرتے چلے جائیں فیڈریشن کے طے شدہ اصول کے ماتحت مرکزی حکومت کو زائد اختیارات ملتے جائیں- اس طریق سے ہندوستان میں اصولی طور پر تو اتحادی حکومت شروع سے ہی قائم ہو جائے گی اور عملی طور پر آہستہ آہستہ اس کا نفاذ ہوگا- مندرجہ بالا غرض کو پورا کرنے کیلئے میرے نزدیک یہ طریق اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جو مسودہ بھی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے مشورہ کے بعد پارلیمنٹ میں پیش ہو اس میں صاف طور پر درج کر دیا جائے کہ اس قانون کے پاس ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان کو قانوناً نو آبادیوں والی حکومت خود اختیاری حاصل ہو جائے گی اور صرف عملی مشکلات کو دور کرنے کے لئے اس کا نفاذ