انوارالعلوم (جلد 11) — Page 378
۳۷۸ صوبہ جات کی مجالس واضع قوانین کونسلوں کی عمر کمیشن نے صوبہ جات کی مجالس واضع قانون کے متعلق جو سفارشات کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ صوبہ جات کی کونسلوں کی عمر پانچ سال کر دی جائے اور گورنر کو اختیار ہو تا دوسرے صوبہ جات کے انتخاب سے اس کے انتخاب کے وقت کو برابر رکھنے کے لئے دو سال تک عمر بڑھا کر سات سال کر دے- اس تبدیلی کی وجہ اس نے یہ بتائی ہے کہ آئندہ ہم نے مرکزی مجلس کے متعلق یہ قاعدہ رکھا ہے کہ اس کے ممبر بالواسطہ طور پر کونسلوں کے ذریعہ سے منتخب ہوا کریں- اس وجہ سے اس قسم کا انتظام ہونا چاہئے کہ عام طور پر سب کونسلیں ایک وقت میں منتخب ہوں تا کہ اسمبلی کے ممبروں کے انتخاب میں دقت نہ ہو- کاغذ پر یہ سکیم بے شک اچھی لگے لیکن اس کی تشریح کر کے دیکھیں تو یہ سکیم بالکل غیرمعقول معلوم ہوتی ہے- اول تو یہ خیال ہی غلط ہے کہ فیڈرل اسمبلی کا انتخاب صوبہ جاتی کونسلوں کے ذریعہ سے کوئی مفید نتیجہ پیدا کر سکتا ہے- لیکن یہ سوال تو الگ زیر بحث آئے گا سردست تو میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ صوبہ جاتی کونسلوں کی عمر کو غیر طبعی قواعد کے ماتحت رکھنا انتظام کو خراب کرے گا- صوبہ جاتی کونسلوں کی عمر بے شک پانچ سال رکھی جائے میرے نزدیک یہ اچھا نتیجہ پیدا کرے گا لیکن اس سے زیادہ عمر کے بڑھانے کی اجازت دینی مناسب نہیں- دنیا کے اکثر نیابتی حکومتوں والے ممالک میں کونسلوں کی عمر پانچ سال یا اس سے کم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون سیاسی کے ماہروں کا خیال ہے کہ اس عرصہ میں اس قدر تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ملک دوبارہ انتخاب کا بے صبری سے انتظار کرنے لگتا ہے- انگلستان کا ہی تجربہ زیر نظر رکھ لو کہ وہ وزارتیں جو یہ کوشش کرتی ہیں کہ ہم پورے پانچ سال اپنی عمر پوری کر کے پھر جنرل الیکشن کا اعلان کریں الیکشن میں اکثر ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں- پس جب ان ممالک میں جن کا نظام پرانا اور ٹھوس ہو چکا ہے پانچ سال کی عمر ایک کافی