انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 341

۳۴۱ الگزنڈرہملٹن (ALEXANDER HAMILTON) کے خیالات سے جو اس قانون اساسی کے بنانے والوں میں سے ایک نمایاں شخصیت ہے ظاہر ہے- انہوں نے قانون ساز مجلس کے سامنے بیان کیا کہ-: ‘’سب اختیارات اکثریت کو دے دو تو وہ اقلیت کو کچل دے گی اور سب اختیارات اقلیت کو دے دو تو وہ اکثریت کو کچل دے گی اس لئے دونوں کو اس قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل پر اپنی حفاظت کر سکیں’‘- ۴۴؎ مصنف کتاب کا بیان ہے کہ یہ روح سب مجلس پر غالب تھی- چنانچہ وہ لکھتے ہیں-: ‘’اس وقت کی بحثوں میں کثرت سے ایسے بیانات موجود ہیں جن سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے’‘- ۴۵؎ اگر تاریخ کو نہ بھی دیکھا جائے تو خود سینٹ کی بناوٹ اس امر کو خوب واضح کر دیتی ہے کیونکہ سینٹ کے لئے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ہر ریاست کے برابر نمائندے اس میں لئے جائیں خواہ اس کی آبادی زیادہ ہو یا کم اور اس امر پر بھی ریاستوں کو بہ مشکل راضی کیا گیا تھا ورنہ وہ تو کانگریس میں بھی برابر نمائندگی کی طالب تھیں- غرض یونائیٹڈ سٹیٹس کے کانسٹیٹیوشن اور تاریخ دونوں سے ثابت ہے کہ اس کے آئین میں اس امر کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کسی صوبہ کو مرکزی حکومت یا دوسرے صوبوں سے نقصان نہ پہنچے- سوئٹررلینڈ کی حکومت کی تاریخ سے گو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کا آئین خاص افراد یا جماعت کی دست برد سے بچنے کے لئے بنایا گیا تھا کیونکہ اس کا آئین درحقیقت ایک لمبے عرصہ میں تیار ہوا ہے- لیکن اس ملک کے حالات اور گردو پیش کے حالات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حکومتوں کے سامنے مقصد وحید یہ ہوتا تھا کہ چرچ کسی طرح حکومت پر قبضہ نہ کر لے- ہاں اس ملک کے آئین اساسی سے اس امر کا پتہ ضرور لگتا ہے کہ بعض خاص افراد کی حکومت سے بچنے کے لئے ایسی کوشش کی گئی تھی- چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس ملک میں بعض مسیحی فرقوں کی قانوناً بندش کر دی گئی ہے اور پادریوں پر پادری ہونے کی صورت میں بعض قیود لگائی گئی ہیں اور اسی قسم کے خوف کے ماتحت ودار تھرگ کے علاقہ کو سوئٹنررلینڈ نے اپنے ساتھ ملانے سے انکار کر دیا ہے- ۴۶؎