انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 330

۳۳۰ ہے- دنیا میں سب انسان یکساں نہیں ہوتے- بعض لوگ معاہدہ کا احترام کرتے ہیں اور اپنے دوسرے بھائیوں کو ان کے توڑنے سے روکتے ہیں اور اس طرح ظلم کا ایک حصہ مٹ جاتا ہے- پس کانسٹی ٹیوشن میں اقلیتوں کے جائز مطالبات کا آنا ضروری ہے تا کہ ملک کی بھی اور دنیا کی رائے عامہ بھی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی تائید میں استعمال کی جا سکے- مگر میں یہ نہیں کہتا کہ صرف کانسٹی ٹیوشن میں ان حقوق کا ذکر آ جائے کیونکہ گو پبلکرائے بھی بہت کچھ مدد کرتی ہے لیکن بعض دفعہ دیانتدارانہ طور پر معاہدات کے معنی کرنے میں اختلاف ہو جاتا ہے- اس صورت میں کوئی اور نظام بھی ایسا ہونا چاہئے جو غیرجانبدار رہ کر اختلاف کا فیصلہ کر سکے- اس موقع پر کمیشن کی سفارش پھر سامنے آ جاتی ہے- کمیشن کا خیال ہے کہ اس کا فیصلہ گورنر کے ہاتھ میں رکھا جائے لیکن میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ طریق درست نہیں اور اس میں گورنروں کی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچے گا اور اقلیتوں کو بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا- میرے نزدیک اس کا بہترین طریق وہی ہے جسے دنیا تجربہ سے معلوم کر چکی ہے- یعنی عدالت کے سپرد یہ فیصلہ کیا جائے- کانسٹی ٹیوشن ایک معاہدہ ہے اور اسے وہی بدل سکتا ہے جس نے یہ معاہدہ کیا تھا- جو شخص یا اشخاص معاہدہ کرنے والوں کی رضا مندی کے بغیر اسے بدلتے ہیں وہ خلاف قانون کام کرتے ہیں- پس ایک ایسا محکمہ ہونا ضروری ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ آیا واقعہ میں معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں اور یہ فیصلہ ہو بھی اس طرح کہ کسی کو معقول طور پر اعتراض کی گنجائش نہ رہے اور یہ غرض صرف عدالت سے حاصل ہوتی ہے- عدالت کے جج بھی انسان ہوتے ہیں- وہ بھی خاص میلان رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک بات ایسی ہوتی ہے جو انصاف کی طرف انہیں مائل کرتی رہتی ہے اور وہ عادت ہے- بہت سے ججوں کی زندگی میں ایسے مقدمات ضرور آتے رہتے ہیں کہ جن میں وہ ایک شدید میلان اور فریق کی طرف محسوس کرتے ہیں لیکن اگر وہ رشوت خور نہ ہوں تو اکثر مقدمات ان کے سامنے ایسے آتے ہیں جن سے انہیں ذاتی دلچسپی نہیں ہوتی اور اس طرح ان کا دماغ اسی رنگ میں نشوونما پاتا رہتا ہے کہ انہیں انصاف کی عادت ہو جاتی ہے- عادت کے علاوہ کچھ احتیاطیں عدالت کے متعلق قانون نے بھی اختیار کی ہیں جو اسے ایک حد تک انصاف پر مجبور کر دیتی ہیں اور وہ یہ کہ اس کی سب کارروائی کھلے بندوں ہوتی ہے اور اس کے سامنے دونو فریق اپنے دلائل پیش کر