انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 324

۳۲۴ خلاف مقدمہ سنا جائے یا نہیں؟ اور اگر اس کے لئے کوئی اور محکمہ بنایا جائے گا تو ایسے آفیسر کہاں سے لائے جائیں گے جن کی رپورٹوں پر اطمینان کیا جا سکے کہ وہ گورنر کے آگے معاملہ کو صحیح طور پر رکھیں گے اور اسے دھوکا نہیں دیں گے- اور اگر یہ صورت اختیار کی جائے گی کہ گورنر خود ہر ایک ایسی درخواست کو جو حقوق کے اتلاف کے متعلق ہو سنے گا تو یہ صورت بھی دو حالتوں سے خالی نہیں ہوگی- اگر تو ایسی درخواستیں زیادہ تعداد میں ہونگی جیسا کہ کمیشن کو خوف ہے تو ایسا گورنر کہاں سے لایا جائے گا جو علاوہ تمام انتظامی کام کی نگرانی اور صوبہ کے لوگوں سے ملاقاتیں کرنے اور قانون ساز مجالس کے کام کی نگہداشت اور محکمانہ خط و کتابت کے ان کثیر التعداد درخواستوں کو بھی پوری طرح سنے گا اور کافی غور کے بعد ان کے بارہ میں فیصلہ دے گا- اس صورت میں تو ایک نہیں کئی گورنر مقرر کرنے پڑیں گے- اور اگر غرض یہ ہے کہ صرف اشک شوئی کی جائے اور درخواستیں لیکر کوئی سیکرٹری پڑھ لے اور خود ہی یہ فیصلہ لکھ کر ہمارے نزدیک معاملہ دخل اندازی کے قابل نہیں گورنر صاحب کے دستخطوں سے یا ان کی طرف سے دستخط کر کے درخواست کنندوں کو واپس بھیج دے تو کیوں کمیشن نے صاف طور پر یہی سفارش نہ کر دی کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضرورت نہیں- انہیں اکثریت کے رحم پر چھوڑ دیا جائے یا تو وہ ظلم سے تنگ آ کر ملک سے نکل جائیں گی یا تباہ اور برباد ہو کر اکثریت کے لئے راستہ خالی کر دیں گی- ہندوستان کے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اس سکیم کی اصل غرض صرف یہ ہے کہ کمیشن نے جو حقوق ہندوستان کو بظاہر دیئے تھے وہ اس ترکیب سے انہیں واپس لینا چاہتا ہے- اور آفیشل بلاک کی جگہ ایک اقلیت کا بلاک بنانا چاہتا ہے جو گورنر کے رحم پر ہونے کے سبب موقع بے موقع اور جائز و ناجائز طور پر اکثریت کا مقابلہ گورنروں کے اشارہ پر کرتا رہے اور حکومت پھر بھی پہلے کی طرح ہندوستانیوں کے ہاتھ سے باہر ہی رہے- میں کمیشن کے ممبروں پر یہ الزام نہیں لگاتا لیکن یہ یقینی بات ہے کہ کوئی گورنر ہر گز اس طرح کام نہیں کر سکتا اور نتیجہ یہی ہوگا کہ جب کبھی کوئی اقلیت شور ڈال کر گورنر کو متوجہ کر سکے گی اس کی درخواست پر تو اس صورت میں کہ اکثریت کو کافی شور مچانے کا موقع نہ ملا ہو یا گورنر کے نزدیک انہیں کسی قدر تنبیہ کرنے کی ضرورت ہو کچھ توجہ ہو جائے گی، ورنہ گورنروں کو ایسی درخواستوں کی طرف بذات خاص توجہ کرنے کا نہ موقع ہوگا نہ وہ ایسا کر سکیں گے- کمیشن نے اس امر پر بھی غور