انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 236

۲۳۶ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت شخص امیر ہوں- اس ناواقفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں چاہتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ بتا دوں کہ اسلامی طریق کے مطابق ہر ملک یا علاقہ میں ایک شخص نبی یا خلیفہ کا نائب ہوتا ہے جسے امیر کہتے ہیں- یہ شخص خلیفہ کی طرف سے اس علاقہ کا نگران ہوتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق مقامی لوگوں کے مشورہ سے اس صوبہ کے ان امور کا انتظام کرتا ہے جن کا انتظام صوبہ کے سپرد کیا گیا ہو- یا ان احکام کی تنفیذ کرتا ہے جو براہ راست خلیفہ یا خلفاء کے مقرر کردہ امراء کی طرف سے جاری کئے گئے ہوں- پس یہ عہدہ حقیقتاً انتخابی نہیں بلکہ تعیینی ہے- لیکن چونکہ ہر اہم معاملہ میں خلیفہ کے لئے حکم ہے کہ وہ پہلے مشورہ لے لیا کرے اس وجہ سے مقامی لوگوں سے اس کے متعلق مشورہ کر لیا جاتا ہے اور ان کے مشورہ کو مشورہ کی حد تک محدود رکھنے کے لئے یہ شرط لگا دی گئی ہے کہ وہ ایک نام پیش نہ کریں بلکہ دو تین نام پیش کریں تا کہ مشورہ کی صورت قائم رہے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ امیر کثرت رائے سے مقرر ہوا ہے- احباب بنگال کی تجویز اس تفصیل کے بعد اب میں اصل معاملہ کو لیتا ہوں ناظر صاحب اعلیٰ نے ایک لمبی خط وکتابت کے بعد جو رپورٹ میرے سامنے پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگال کے دوستوں میں امارت اور اس کے مرکز کے متعلق بہت کچھ اختلاف ہے- مختلف آراء کا مطالہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف احباب مندرجہذیل تجاویز پیش کرتے ہیں- ۱-امیر قادیان سے مقرر ہو کر آئے- ۲-چوہدری ابوالہاشم خان صاحب امیر ہوں- ۳-پروفیسر عبداللطیف صاحب امیر ہوں- ۴-مولوی ابوطاہر صاحب امیر ہوں- ۵-پروفیسر عبدالقادرصاحب امیر ہوں- ۶-امیر سرکاری آدمی نہ ہو- ۷-امیر بنگالی ہو- ۸-مقامی امراء میں سے کوئی شخص امیرہو- ۹-مرکز کلکتہ ہو-