انوارالعلوم (جلد 11) — Page 220
۲۲۰ عرفان ِالہٰی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ پہچاننے کا ہوتا ہے- مادی چیزوں کے پہچاننے کا طریق یہ ہے کہ ہم انہیں آنکھوں سے دیکھتے یا زبانوں سے چکھتے یا کانوں سے سنتے یا ہاتھوں سے چھوتے ہیں- مگر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں جو دیکھنے سننے، سونگھنے یا چکھنے سے معلوم ہو سکے- چنانچہ وہ ذات خود اپنے متعلق فرماتی ہے- لا تدرکہ الابصار وھویدرک الابصار- وھو اللطیف الخبیر ۱؎ کہ وہ ایسی ذات ہے جسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں مگر وہ خود آنکھوں تک پہنچ جاتی ہے- پس جب ہم اسے دیکھ نہیں سکتے تو پھر پہچاننے کے لئے کوئی اور ذریعہ اختیار کرنا ہوگا اور وہ ذریعہ یہی ہے کہ جو ہستی خالق ہے اور جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہ سارے جہان کی خالق ہے- اس کی پہلی شناخت اپنی ذات سے ہوگی- کیونکہ جو چھوا، چکھا، دیکھا اور سنا نہ جا سکے- اس کے پہچاننے کا طریق یہ ہے کہ اس کے کام دیکھیں- اور خدا تعالیٰ کے کاموں کے لحاظ سے سب سے پہلی چیز ہماری اپنی ذات ہی ہے- پس سب سے پہلی شناخت خدا تعالیٰ کی اپنی ذات میں ہی انسان کر سکتا ہے- اور جو اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے خدا تعالیٰ بھی اسے پہچان لیتا ہے- اسی لئے صوفیاء کہتے ہیں من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہنچان لیا- دوسری شناخت کی صورت یہ ہے کہ دوسری کامل چیزوں میں خدا کو دیکھا جائے- میں نے خدا تعالیٰ کی شناخت کے طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے کامل چیزوں کو مقدم رکھا ہے- حالانکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ جتنی کوئی چیز زیادہ کامل ہوگی اتنی ہی زیادہ آسانی کے ساتھ دیکھی جا سکے گی- مگر یہ درست نہیں کیونکہ جتنی کوئی چیز زیادہ کامل ہوگی اتنی ہی وراء الوراء ہوتی چلی جائے گی- اس لئے کامل چیزوں میں خدا کا دیکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے- پس خدا تعالیٰ کی پہچان کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ انسان کو اپنی ذات میں خدا تعالیٰ نظر آ جائے- یہ سب سے بالاوبلند مقام ہے- اس سے دوسرا مقام یہ ہے کہ کامل انسانوں میں خدا نظر آ جائے اور تیسرا مقام یہ ہے کہ باقی انسانوں میں خدا نظر آئے- کامل انسان میں خدا تعالیٰ کا دیکھنا مشکل ہے- مگر عام انسانوں میں خدا کو دیکھنا بھی آسان نہیں- ایک انسان اگر جنگل میں کوئی خوشکن سبزہ زار دیکھے تو بیاختیار سبحان اللہ کہے گا اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی توجہ پھر جائے گی- لیکن اس سے بہتر اس کا ہمسایہ ہوگا مگر اس سے لڑتا جھگڑتا رہے گا- وہ سبزہ میں تو خدا کو دیکھ لے گا لیکن ہمسایہ میں اسے نظر نہ آئے گا- وہ گانے والی چڑیا کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کا جلوہ محسوس کرے