انوارالعلوم (جلد 11) — Page 134
۱۳۴ ذکر ہے۔طہارت اور پاکیزگی کے متعلق احکام بیان ہیں ، مگر ان احکام کو ایسی عمدگی سے بیان کیا ہے کہ بات بھی کہہ دی گئی ہے اور عریاں الفاظ بھی استعمال نہیں کئے گئے۔لیکن اس کے مقابلہ میں دوسری کتابوں میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جن کو پڑھتے ہوئے شرم آجاتی ہے۔جیسا کہ پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۱ تا ۳۸ میں حضرت لوط علیہ اسلام کے متعلق ایک گندے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔چونکہ یہاں عورتیں بھی بیٹھی ہیں اس لئے میں اس حوالہ کو نہیں پڑھتا۔احباب بائیبل سے اس حوالہ کو خود پڑھ لیں۔انجیل میں فحش تو نہیں مگر ایک بات اس میں بھی ایسی ہے جو بچوں کے اخلاق پر برا اثر ڈالتی ہے اور وہ یہ کہ متی باب ۱۲ میں لکھا ہے۔’’جب وہ (مسیح ) بھِیڑ سے یہ کہہ ہی رہا تھا تو دیکھو اس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اس سے باتیں کرنی چاہتے تھے۔کسی نے اس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے باتیں کرنی چاہتے ہیں۔اس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی۔اور اپنے شاگِردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور بہن اور ماں ہے۔‘‘۳۷ حضرت مریم ؑحضرت مسیؑح پر ایمان لانے والی تھیں مخالف نہ تھیں مگر باوجود اس کے انجیل کے بیان کے مطابق آپ نے ان کی پروانہ کی۔لیکن قرآن کہتا ہے۔ماں باپ خواہ مخالف ہوں ، ان کی عزت و توقیر کرنا تمہارا فرض ہے۔پھر رگوید جلد اول کتاب ۴ دعا ۱۸ میں اندر دیوتا کی پیدائش کا ذکر ان الفاظ میں ہے۔Not this way go I forth: hard is the passage۔Forth from the side obliquely will I issue۔Much that is yet undone must ۳۸I accomplish۔یعنی اندر نے اپنی پیدائش کے وقت کہا۔میں ماں کی پسلیوں میں سے نکل کر جاؤں گا۔اسی طرح اتھروید جلد اول کتاب ۳ دعا ۲۵ میں عملِ حُبّ بتایا گیا ہے۔اور کہا گیا ہے کہ اے عورت تو چوری چھپے اپنے ماں باپ کے گھر سے نکل کر بھاگ چل۔اتھروید جلد اول کتاب ۵ دعا ۲۵ صفحہ ۲۲۹۔۲۳۰ میں لڑکا پیدا ہونے کے متعلق نہایت فحش دعا درج ہے۔پھر مرد عورت کے تعلقات کا ایسا گندہ نقشہ کھینچا گیا ہے کہ کوئی ماں باپ