انوارالعلوم (جلد 11) — Page 94
۹۴ مغز اور اس کی جان ہے۔اور دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اسے پورے غور اور توجہ کے ساتھ سنیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔یہ مضمون فضائل قرآن کریم کے متعلق ہے۔یعنی قرآن کریم میں وہ کون سی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے دوسرے مذاہب کی کتابوں پر اسے فضیلت دی جاسکتی ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ قرآن کریم پر ہمارے مذہب کا دارو مدار ہے۔اگر خدا نخواستہ قرآن کریم میں ہی کوئی نقص ثابت ہوجائے یا اس میں غیر معمولی خوبیاں ثابت نہ ہوں تو اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پس یہ ایک نہایت ہی نازک مسئلہ ہے جس پر حملہ کرنے سے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن کریم سے باہر نہیں سمجھتا۔آپ بھی قرآن کا جزو ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْأَمِیْنُ۔عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۲ یعنی یہ قرآن یقینا رب العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔یہ قرآن روح الامین لے کر تیرے دل پر نازل ہوا ہے تاکہ تو انذار کرنے والوں کی مقدس جماعت میں شامل ہوجائے۔پس ایک قرآن لفظوں میں نازل ہوا ہے اور ایک قرآن رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مطہر پر نازل ہوا ہے۔اس وجہ سے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حملہ درحقیقت قرآن کریم پر ہی حملہ ہو گا۔تمام ادیان اور کتب الہامیہ پر قرآن کریم کی فضیلت ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم ساری دنیا کے لئے اور ساری زمانوں کے لئے ہے۔اب اگر قرآن کریم ساری دنیا اور سارے زمانوں کے لئے ہے تو ہماری اس کے متعلق ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔بہ نسبت اس کے کہ قرآن کریم صرف عرب کے لئے ہوتا اور صرف ایک زمانہ کے مفاسد دور کرنے کے لئے آتا۔عربوں کے پاس کوئی شریعت نہ تھی کوئی مذہبی کتاب نہ تھی۔وہ خیالی باتوں پر یا قومی رسم و رواج پر عمل کرتے تھے۔ان کے متعلق ہمارے لئے صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ عرب چونکہ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا تھے قرآن کریم نے انہیں ان برائیوں سے روک دیا اس وجہ سے اس کی ضرورت تھی۔پس اگر عرب ہی کے لئے قرآن ہوتا تو قرآن کی فضیلت اور برتری ثابت کرنے میں کوئی دقت نہ تھی۔مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ساری دنیا کے لئے آیا ہے اور یہودی ، مسیحی ، ہندو، پارسی وغیرہ سب اس کے مخاطب ہیں اور تمام دوسری کتابیں