انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 67

۶۷ ’’راز طشت ازبام ہو گیا‘‘- ’’محمود کی سازش ظاہر ہو گئی‘‘- لیکن نیچے میری نسبت خبر درج تھی کہ میں رات کو لوگوں کو جگاتا پھرتا تھا کہ اٹھو اور نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو تا اللہ تعالیٰ جماعت کو فتنہ سے بچائے- اس پر کئی دوستوں کے میرے پاس خط آئے کہ کیا یہ صحیح بات ہے- میں نے لکھا کہ گھبراتے کیوں ہو- کیا دعا کرنا گناہ ہے؟ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ چوری کرو، ڈاکے ڈالو، تو اخباروں کی ہیڈنگ سے ڈرنا نہیں چاہئے- الفضل و مصباح کا مطالعہ ضروری ہے خصوصیات سلسلہ کے لحاظ سے یہاں کے اخباروں میں سے دو اخبار الفضل و مصباح کا مطالعہ ضروری ہے- اس سے نظام سلسلہ کا علم ہو گا- بعض لوگ اس وجہ سے ان اخباروں کو نہیں پڑھتے کہ ان کے نزدیک ان میں بڑے اور اونچے اور مضامین ہوتے ہیں ان کے سمجھنے کی قابلیت ان کے خیال میں ان میں نہیں ہوتی- اور بعض کے نزدیک ان میں ایسے چھوٹے اور معمولی مضامین ہوتے ہیں وہ اسے پڑھنا فضول خیال کرتے ہیں- یہ دونوں خیالات غلط ہیں- حضرت امام ابوحنیفہؒ کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے- ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو کبھی کوئی لائق استاد بھی ملا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ایک بچے سے زیادہ کوئی نہیں ملا- اس نے مجھے ایسی نصیحت کی کہ جس کے خیال سے میں اب بھی کانپ جاتا ہوں- اس بچے کو بارش اور کیچڑ میں دوڑتے ہوئے دیکھ کر میں نے اسے کہا- میاں کہیں پھسل نہ جانا- اس نے جواب دیا امام صاحب! میرے پھسلنے کی فکر نہ کریں اگر میں پھسلا تو اس سے صرف میرے کپڑے ہی آلودہ ہوں گے مگر دیکھیں کہ کہیں آپ نہ پھسل جائیں آپ کے پھسلنے سے ساری امت پھسل جائے گی- پس تکبر مت کرو اور اپنے علم کی بڑائی میں رسائل اور اخبار کو معمولی نہ سمجھو- قوم میں وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک خیال بنانے کے لئے ایک قسم کے رسائل کا پڑھا ضروری ہے- مصباح کو مفید بنانے کی تجویز اکثر کہا جاتا ہے کہ مصباح میں کوئی علمی مضمون نہیں ہوتا- میں اسے دیکھتا ہوں تو بہت مفید پاتا ہوں- ہاں مضمونوں کی ایک ترتیب چاہئے- سو یہ نقص اخباروں میں عام ہوتا ہے اس میں ترتیب نہیں ہوتی- اگر کہیں خدا تعالیٰ کے رزاق ہونے کا بیان ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی کشیدہ کا ذکر آ جاتا ہے اور اس قسم کے مضامین سے ذہنی تربیت نہیں ہو سکتی اس لئے ہمارے اخباروں میں مضامین کی ایک ترتیب ہونی چاہئے- اگر تم وعدہ کرو کہ اس کا باقاعدہ مطالعہ کرو گی تو اس