انوارالعلوم (جلد 11) — Page 66
۶۶ وقت حکم ہے- یہ حاجی اس سے ناواقف تھا- ایک دانا آدمی وہاں آ گیا اور اس نے اس سے امتحان کے طور پر چند ایک اہل مکہ کے نام پوچھے وہ کیسے تھے؟ پوچھتے کہا کہ حجر اسود صاحب کا کیا حال ہے؟ جواب دیا اچھے ہیں مگر اب بوڑھے ہو گئے ہیں اور اس سے اس کا جھوٹ کھل گیا - اس طرح میں اس بات کا علم حاصل کر لوں گا کہ آپ نے وہ کتابیں پڑھی ہیں یا نہیں- مثلاً یہ کہ کشتی نوح میں حضرت مسیح ناصری کا ذکر ہے یا نہیں؟ یا شہادت القرآن میں نماز کا ذکر ہے یا نہیں؟ اتنی بات تو جاہل سے جاہل عورت بھی کر سکتی ہے- تمہیں چاہئے کہ ان کتابوں کو اچھی طرح پڑھو تا وقت پر شرمندہ نہ ہونا پڑے- ہماری جماعت کی عورتوں کو دوسری عورتوں سے دینی تعلیم میں زیادہ ہونا چاہئے- رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ایک مرد و عورت بھی انپڑھ نظر نہ آتا تھا- یہ بہت بڑے اخلاص کا ثبوت ہے- حالانکہ عرب میں تعلیم کا بالکل رواج نہ تھا- اس زمانے میں تعلیم کے متعلق بہت سی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے- عام اخبارات بھی پڑھا کرو سب سے آسان ذریعہ کتاب ہے یا تازہ اخبار کا مطالعہ- ہفتہواری یا دوسرے اخبار گو مفید ہوتے ہیں مگر اس سے معلومات روزانہ اخبار کی طرح نہیں ہو سکتے- میرے پاس پانچ روزانہ اخبار، پندرہ سولہ رسالے آتے ہیں مگر میں اپنے گھر میں دیکھتا ہوں کہ روزانہ اخبار کے مطالعہ کی طرف بہت کم توجہ ہے- رسالے تو پڑھ لیتی ہیں حالانکہ رسالوں سے زیادہ اخباروں میں معلومات ہوتی ہیں- علم کی ترقی خبروں سے ہوتی ہے نہ کہ مضمونوں سے- رائے پڑھنا بیوقوفی ہے خبریں زیادہ مفید ہوتی ہیں- میں نے اخبار والوں کی رائے کو کبھی نہیں پڑھا کیونکہ میں خود رائے رکھتا ہوں- چاہئے کہ ہم اپنی رائے رکھیں- خبروں کی طرف خاص توجہ ہو- دوسروں کے آراء پر کبھی اعتماد نہیں کرنا چاہئے- آراء تو مختلف بھی ہوا کرتی ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ہی الہام سے کوئی کافر ہو جاتا ہے کوئی مومن- یعنی کسی کی رائے ہوتی ہے کہ یہ جھوٹ ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ درست ہے- اس پر صداقت کھل جاتی ہے- غرض دونوں رائیں اپنی اپنی طرز کی ہوں گی- رائے پڑھنے والا رائے سے متاثر ہو گا نہ اصل حقیقت سے- میں اس کی مثال کے طور پر غیر مبائعین کے اخبار پیغام صلح کی ایک خبر بتاتا ہوں- میری خلافت کے شروع ایام میں اس میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے عنوان اس قسم کے تھے کہ’’حقیقت کھل گئی‘‘-