انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 62

۶۲ قرآن مجید علوم کا خزانہ ہے قرآن کے متعلق ایک موٹی مثال کو لو کہ کس طرح تیرہ سو سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے حالات بیان کئے ہیں- فرمایا و اذا العشا رعطلت ۶؎یعنی اونٹنیوں کی سواریاں بے کار ہو جائیں گی- دنیا نے آج ریل نکالی ہے اس سے ثابت ہو گیا کہ قرآن نے سالہا سال پہلے بتا دیا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا یعنی ایسی سواریاں پیدا ہو جائیں گی کہ ان سواریوں کو ضرورت نہ رہے گی- و اذا الوحوش حشرت ۷؎یعنی ادنیٰ و جاہل قومیں عزت والی بن جائیں گی اور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ بھی بیدار ہو کر اپنا حق مانگیں گی اور دنیا کو ان کے حقوق دینے پڑیں گے- اب الیکشن کے سوال کو ہی دیکھو کس زبردست طور پر اس پیشگوئی کی تصدیق کر رہا ہے کہ بڑے بڑے عزت والے برہمن چوہڑوں کے دروازوں پر ووٹ مانگنے کے لئے جاتے ہیں- و اذا النفوس زوجت ۸؎یعنی لوگ ملا دئے جائیں گے- یعنی ادنیٰ اور اعلیٰ ایک جگہ پر اکٹھے ہوں گے- اس کا ایک نمونہ آج کا جلسہ ہی ہے- تم میں سے کئی ہیں کہ جن کی مائیں اور دادیاں اپنے سے ادنیٰ لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے کو اپنی ہتک خیال کرتی ہوں گی مگر تم خدا کی وحی کے مطابق مل کر بیٹھی ہو اور خدا نے سب کو برابر بنا دیا- زمانہ بدل چکا اس لئے تم بھی تبدیلی پیدا کرو آج تمام سرداریاں ختم ہو گئیں- پہلے زمانہ میں جو حال تھا اس کا نقشہ اس مثال سے خوب ظاہر ہو جا تا ہے- کہتے ہیں کہ ایک چوہدری ایک مراثی کو ساتھ لے کر سفر کو جا رہا تھا راستے میں سرائے میں ٹھہرا جس چار پائی پر وہ بیٹھا اس کے نیچے بارش کی وجہ سے سخت کیچڑ تھا- ناچار بیچارہ مراثی چوہدری کے پاس بیٹھ گیا- چوہدری نے اسے خوب جوتے لگائے اور کہا کہ تم ہماری برابری کرتے ہو- دوسری منزل پر انہیں چار پائی نہ ملی اور چوہدری کو زمین پر بیٹھنا پڑا- تب مراثی پھاؤڑے سے زمین کھودنے لگا اور قبر کی طرح ایک گڑھا بنانے لگا- چوہدری نے کہا یہ کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا برابر کیسے بیٹھوں؟ اب وہ زمانہ نہیں رہا- آج کئی ادنیٰ اقوام کے ڈپٹی ہیں- اہل غرض سید، پٹھان، مغل سلام کرنے ان کے دروازے پر جاتے ہیں- اب وہ معزز اور بڑا ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک مومن اور متقی ہے- اس زمانے