انوارالعلوم (جلد 11) — Page 57
انوار العلوم جلدا) مستورات سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۲۹ء بر موقع جلسه سالانه ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ میں نے ہر سال جماعت کی مستورات کو اس طرف عورتوں کی موجودہ علمی قابلیت توجہ دلائی ہے ہے کہ جب تک تعلیم : نہ ہو خدا سے ان کا اپنا معاملہ درست نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ ذمہ داریاں پوری ہو سکتی ہیں جو اپنے رشتہ داروں اور خاندان اور اپنی قوم اور ملک کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔ شاید یہ الفاظ جو اس وقت میں نے بیان کئے ہیں آپ کو بوجھل معلوم ہوتے ہوں کیونکہ ان میں یہ کہا گیا ہے کہ تم میں تعلیم نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک تم دوسری زبانیں تو در کنار خود اپنی زبان سے بھی ناواقف ہو مجھے عورتوں میں تقریر کرتے وقت یہ وقت پیش آتی ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ میری تقریر میں ایسے الفاظ نہ آئیں جن کو تم تقریر میں مشکلات لات سمجھ نہ سکو حالانکہ میں کسی غیر زبان میں تقریر نہیں کیا کرتا۔ جب قوم کی ایسی گری ہوئی حالت ہو کہ وہ اپنے ملک کی زبان میں بھی بات سمجھنے کی قابلیت نہ رکھتی ہو تو اس کی کمزور حالت کا اندازہ اس سے ہی ہو سکتا ہے۔ تقریر میں روز مرہ ہی کی زبان ہوتی ہے۔ مثلا اگر دین کا ذکر آئے تو اس میں قیامت ، تقدیر وغیرہ ۔ وغیرہ کے الفاظ ضروری ہیں۔ پھر جو نہ سمجھے تو واعظ کے لئے کتنی مشکلات ہیں۔ اس کی دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں۔ یا تو وہ آسان آسان لفظ لا کر عام فہم طریق کے لفظوں ہی کے خیال میں پڑا رہے اور اپنے مضمون کو خراب کر لے یا اصطلاحی لفظ استعمال کر کے اپنے مضمون کو تو ادا کر دے مگر سامعین اس کو نہ سمجھ سکیں۔ پس ہر