انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 52

۵۲ کوتاہیوں کو دور کر دے جو ہمیں اپنے ارادوں کے مطابق کام کرنے سے روکتی ہیں- پھر وہ کمی پوری کر دے جس کا پورا کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے- پھر وہ برکات جن کا نازل کرنا ہمارے قبضہ سے باہر ہے نازل کرے- رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں خدا اس مومن کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا کرتا ہے-۱؎یہ کیا ہی آسان بات ہے دعا قبول کرانے کے متعلق کہ ایک دوسرے کے لئے دعا کریں اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے لئے دعا نہ کریں- کریں- لیکن دوسروں کے لئے بھی کریں تا کہ اگر اپنے لئے دعا میں وہ جوش پیدا نہ ہو کہ وہ پوری ہو جائے تو اپنے بھائی کے لئے جوش پیدا ہو جائے- اور اس کے متعلق جو دعا کرے وہ پوری ہو جائے- اسی طرح اس کے بھائی میں اگر اپنے لئے پورا جوش نہیں پیدا ہوا تو اس نے اس کے لئے جو دعا کی وہ قبول ہو جائے- گویا اس کی دعا ہمارے لئے قبول ہو جائے اور اس کے متعلق ہماری دعا مانی جائے- اس کے متعلق مجھے ایک رؤیا یاد آیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب کہ میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہو گی دیکھا تھا- میں نے دیکھا قیامت کا دن ہے اور خدا کے حضور لوگوں کو پیش کیا جا رہا ہے- خدا تعالیٰ ایک مضبوط خوبصورت جوان کی شکل میں کرسی پر بیٹھا ہے- دائیں طرف حضرت خلیفہ اول اور دوسرے کئی لوگ بیٹھے ہیں میں بھی انہی میں ہوں- وہاں ایک دائیں طرف کوٹھڑی ہے ایک بائیں طرف- اس وقت خدا تعالیٰ کے حضور ایک شخص پیش کیا گیا جو بہت مضبوط اور تنومند تھا اس کا چہرہ سرخ تھا- یاد نہیں رہا خدا تعالیٰ نے اس سے کچھ پوچھا یا نہیں اور اگر پوچھا تو میں نے نہیں سنا مگر بغیر اس کے کہ وہ جواب دیتا اس کے چہرہ کی رنگت متغیر ہونے لگی اور ایسا معلوم ہوا کہ اسے کوڑھ ہو گیا ہے- پھر اس کے جسم کا گوشت پوست پیپ بننے لگا آخر سر سے لے کر پیر تک وہ پیپ کا بن گیا- اس پر فرشتوں نے کہا یہ جہنمی ہے آؤ اسے جہنم میں پھینکیں- چنانچہ اسے بائیں طرف کی کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا- پھر ایک اور شخص لایا گیا- اللہ تعالیٰ نے اس سے سوال نہیں کیا یا مجھے یاد نہیں رہا اس کا چہرہ چمکنے لگا اور اس کا سارا جسم نور کا بن گیا- اس پر فرشتے بغیر خدا کے حکم کے کہنے لگے یہ جنتی ہے، چلو اسے جنت میں لے جائیں- چنانچہ اسے جنت میں لے گئے- اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا تم اپنی پیٹھوں کی طرف دیکھو جس کے پیچھے پختہ دیوار ہو، وہ جنتی ہے اور جس کے پیچھے دیوار کچی ہو وہ دوزخی ہے- یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ وہاں پھر دکھائی نہ دیا- اور ہم پر اتنی ہیبت طاری ہو گئی کہ کوئی ڈر کے مارے اپنے