انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page vii

تمہ رپورٹ پر مختصر تبصرہ ہے۔ جس پر حضور نے زبردست تنقید فرمائی ہے اور مسلمانوں کے مفادات کا جس زبردست سیاسی بصیرت سے حضرت مصلح موعود نے دفاع کیا یہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ ہندوستان کا اور کوئی دینی یا دنیاوی رہنما اس شاندار علمی و قلمی خدمت میں آپ کے پاسنگ بھی نہیں ٹھہرتا۔ اس تحریر میں بھی جو تمہ رپورٹ پر تبصرہ تھا حضرت مصلح موعود نے بڑی جرات اور دلیری سے انگریزوں کو یہ بات سمجھا دی کہ انگریز آٹھ کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے ہندؤوں کا غلام بنا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ سیاسی رہنمائی کی دوسری تحریر گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کے بارہ میں تھی اہم مسئلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے صحیح نمائندے کا نفرنس میں جائیں۔ حضور نے واضح فرمایا کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصلہ مسلمانوں کے منتخب نمائندوں اور ان کی اہم سیاسی انجمنوں کے ذریعے ہو“۔ حضور کی یہ کوشش کامیاب رہی اور قائد اعظم محمد علی جناح، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان اور علامہ اقبال وغیرہ مسلمانوں کے اہم نمائندے شامل ہوئے ۔ تیسری اہم تحریر ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل تھی اس میں گول میز کانفرنس کی آمد کے پیش نظر مسلمانوں کے اہم مسائل کو پوری طرح کھول کر واضح کیا گیا تھا۔ یہ کتاب اردو اور انگریزی میں شائع کی گئی تھی اور خود انگریزوں نے اعتراف کیا کہ اس کے ذریعہ سے ہندوستان کے سیاسی مسائل اور خصوصاً مسلمانوں کے حقوق نہایت مدل طریق سے واضح ہو کر سامنے آ گئے ہیں ۔ اس کتاب کی ایک اہم تحریر ندائے ایمان کے اشتہارات کا پہلا اشتہار ہے جو ہندوستان بھر میں چھیاسٹھ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔ یہ اشتہارات حضرت مصلح موعود کی اس از لی تڑپ کے آئینہ دار تھے کہ دعوت الی اللہ کسی صورت میں مدھم نہ پڑے۔ حضور بار بار مختلف طریقوں سے دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کو جماعت کے سامنے پیش کرتے رہتے تھے۔ یہ سلسلہ اشتہارات بھی دعوت الی اللہ کی آسمانی مہم کی ایک کڑی ہے۔ الغرض یہ جلد بھی پیشگوئی مصلح موعود کے نشان ” وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا“ ہوگا“ کی مصداق