انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 35

انوار العلوم جلد ۳۵ مدی قادیان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مذبح کے سوال کو حل کرنے پر اہلِ قادیان کی پوری آمادگی خلیفة ا (فرموده ۶ - اکتوبر ۱۹۲۹ء) مدیح قادیان کے انہدام سے پیدا شدہ صورت حالات کے مطابق مشورہ اور غور کرنے کیلئے ۲۔ اکتوبر ۱۹۲۹ء بعد نماز عصر مسجد نور میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں حضرت المسیح الثانی نے تقریر فرمائی۔ حضور نے تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا :۔ مدیح کے معاملہ میں جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہاں دو قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ مذبح کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے اور ہمیں اس کے متعلق اب کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں اور بعض کا یہ خیال ہے کہ اس معاملہ میں ہماری طرف سے سنتی ہو رہی ہے اور جس طرح کام ہونا چاہئے اس طرح نہیں چلایا جاتا۔ لیکن یہ دونوں خیال غلط ہیں۔ مذبح کے متعلق کام کرنے کا وقت اب شروع ہونے والا ہے ہم نہیں کہہ سکتے گورنمنٹ اس کے متعلق کیا فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ یہی ہے کہ تمام باتیں کمشنر تک پہنچادی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ان باتوں پر عمل بھی کرے۔ اور ہمارا پچھلا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ گورنمنٹ شورش پسندوں سے ڈرتی ہے اور امن پسند لوگوں کے حقوق کی کما حقہ حفاظت نہیں کرتی حالانکہ گورنمنٹ کی ضرورت ہی کمزوروں کے لئے ہوتی ہے۔ زبر دست تو خود لاٹھی سے اپنی حفاظت کر لیتے ہیں بلکہ ان کی تو یہ خواہش ہوتی ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نہ رہے تا وہ اپنی من مانی کار روائیاں کریں۔ اگرچہ ہندوستان میں اس وقت بھی ایسے حکام موجود ہیں جو قانون کا احترام اور کمزوروں کی اعانت کرتے اور حق و انصاف کو ہر حال میں قائم رکھتے ہیں لیکن ایک طبقہ ایسا ہے جو حالات کے مطابق ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور