انوارالعلوم (جلد 11) — Page 622
۶۲۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) پیدا نہ ہوئے۔اس آخری زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ کس طرح اسلام کو پھر خدا تعالیٰ اپنی اصل حالت پر لے آیا ہے اور قرآن کریم کس طرح اپنے اصلی مفہوم پر قائم ہو گیا۔موجودہ زمانہ میں جتنی خرابیاں قرآن کریم کی غلط تفسیریں کر نے کی وجہ سے پیدا ہو چکی تھیں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر دور کر دیا۔اور قرآن کریم کو اسی طرح اجلا کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا جیسے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔حفاظت قرآن کا دائمی وعدہ پس قرآن کریم کی دائمی حفاظت کا جو وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا وہ پورا ہوا اور کوئی شخص آج تک نہ ظاہری طور پر قرآن کو بگاڑ سکا اور نہ باطنی طور پر۔اور جب آج تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ وعدہ پورا ہو تارہا ہے تو آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔خدا تعالیٰ نے خود بتا دیا ہے کہ اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ ۸۷ آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے۔پس جب مکمل دین آ گیا اور نعمت کامل ہو گئی تو اب اور کسی دین کی ضرورت ہی نہ رہی۔اب جو بھی مامور آئے گا اسی کی تائید میں آئے گا۔اور اس وجہ سے قرآن قیامت تک بگڑ نہیں سکے گا۔اگر قرآن کو کوئی بدل سکتا ہے تو خدا ہی بدل سکتا ہے لیکن خدا نے اپنےمتعلق بتا دیا کہ قرآن کو بالکل مکمل کر دیا گیا ہے۔اور انسانوں کے بدل نہ سکنے کے متعلق ہر قسم کی حفاظت کے سامان کر دیئے گئے ہیں۔پس اب قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔دوستوں کو ایک نصیحت میں دوستوں کو ایک نصیحت کرنا چا ہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب سے ریل جاری ہوئی ہے ایک نقص پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ ادھر جلسہ کے آخری دن لیکچر ختم ہوا ادھر سب لوگ واپس جانے شروع ہو جاتے ہیں۔جنہیں مجبوری ہو رخصت ختم ہو چکی ہو وہ تو جا سکتے ہیں لیکن جو ٹھہر سکتے ہوں انہیں ضرور ٹھہرنا چا ہئے۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں سارے سال میں جلسہ کے موقع پر ہی آنے کا اتفاق ہوتا ہے انہیں چا ہئے کہ جلسہ کے ختم ہو نے کے بعد بھی ٹھہرا کریں۔یہاں کی مسجدوں میں دعائیں کریں۔یہاں کے لوگوں سے ملاقات کریں۔یہاں کا کاروبار دیکھیں۔بہشتی مقبرہ میں جو لوگ دفن ہیں ان کے لئے دعا کریں۔ا ب میں دعا کرتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ جلسہ کامیاب کیا ہے