انوارالعلوم (جلد 11) — Page 613
۶۱۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) کیا ہے؟وہ خدا کا رسول ہے جو ان پر کئی پاکیزہ صحیفوں والی کتاب پڑھتا ہے۔کئی ایسی تعلیمیں تھی جو بگڑ گئی تھیں۔قرآن کریم میں ان کو اصل حالت میں پیش کیا گیا ہے۔پس چونکہ اب اس میں کتب قیمہ جمع ہو گئی ہیں اس لئے اب یہ کتاب نہیں بگڑ سکتی۔قرآن کے متعلق فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ کہہ کر بتایا کہ پہلی تعلیموں میں دو قسم کی خرابیاں تھیں۔ایک وہ خرابی جس کی اصلاح کی ضرورت بوجہ نسخ نہ رہی تھی اسے چھوڑ دیا۔دوسری وہ خرابی جو ایسی تعلیم میں تھی جو قائم رہنی تھی سو اسے دور کر کے اخذ کر لیا۔غرض اگر تو کوئی ایسی تعلیم بگڑ گئی تھی جس کی دنیا کو اب ضرورت نہ تھی تو اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔اور اگر اس تعلیم میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جو قائم رہنی چا ہئے تھی تو اس خرابی کو دور کر کے صحیح تعلیم کو اخذ کر لیاگیا ہے۔سمائے روحانی حیّی و قیّوم کی صفات پر بنیاد اس کے مقابلہ میں نیا آسمان جو قرآ ن کے ذریعہ بنا جس کی بنیاد حیّی و قیّوم کی صفات پر رکھی گئی ہے۔مختلف انبیاء کے کلام مختلف صفات ِ الٰہیہ کے ماتحت نازل ہو تے رہے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَانٍ یعنی ہر زمانہ نبوت میں اﷲ تعالیٰ کا کلام نئی صفات کے ماتحت نازل ہو تا ہے۔اس جگہ یوم سے مراد نبوت کا زمانہ ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے۔یُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ إِلَی الْأَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ إِلَیْہٖ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ أَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔۷۷ یعنی اﷲ تعالیٰ آسمان سے زمین تک اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا اور پھر وہ ا سکی طرف ایک ایسے وقت میں چڑھنا شروع کرے گا جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گنتی کرتے ہو۔پس یوم سے مراد زمانہ نبوت ہے اور سماء سے قرآن کریم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم کا نام صحف مرفوعہ بھی آیا ہے اور سماء بھی بلند ی کا نام ہے۔پس اس روحانی آسمان کو بھی سماء کہہ سکتے ہیں اور اس کے لئے صفت حیّی و قیّوم کو استعمال کیا گیا ہے۔یہ ثبوت کہ قرآن حییٌّ و قیُّوم کی صفات کی بنیاد پر ہے قرآن سے بھی اور حدیث سے بھی ملتا ہے حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے بڑی ہے تو آپ نے فرمایا آیت الکرسی۷۸ اور آیت الکرسی کی بنیاد حیّی و قیّومپر ہے۔یہ روایت ابی بن کعب ؓ، ابن مسعود ؓ، ابوذر