انوارالعلوم (جلد 11) — Page 603
۶۰۳ فضائل القرآن(نمبر ۳) مرد عورت میں مَوَدَّت کا مادہ دوسری بات خدا تعالیٰ نے یہ بتائی کہ وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً اس ذریعہ سے تم میں مَوّدت پیدا کی گئی ہے۔مَوّدت محبت کو کہتے ہیں۔لیکن اگر اس کے استعمال اور اس کے معنوں پر ہم غور کریں تو محبت اور مَوّدت میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ مَوّدتْ اس محبت کو کہتے ہیں جو دوسرے کو اپنے اندر جذب کر لینے کی طاقت رکھتی ہے۔لیکن محبت میں یہ شرط نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ مَوّدتْ کا لفظ بندوں کی آپس کی محبت کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد عورت کو اور عورت مرد کو جیت لینا چاہتی ہے۔ان میں سے جو دوسرے کو جیت لیتا ہے وہ مرد ہوتا ہے اور جسے جیت لیا جاتا ہے وہ عورت ہوتی ہے۔مگر اﷲ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ نہیں رکھا گیا۔کیونکہ بندہ کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو جذب کرسکے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ نہیں آیا کہ بندہ خدا کے لئے وَدُوْدہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے آیا ہے کہ وہ وَدُوْدُ ہے۔وہ بندہ کو جذب کر لیتا ہے مگر مردو عورت کے لئے مَوَدَّۃً کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔چونکہ انسانوں کو کامل کرنا مقصود تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے احساسات مرد اور عورت میں رکھے کہ مرد چاہتا ہے عورت کو جذب کرے اور عورت چاہتی ہے مرد کو جذب کرے۔لیکن خدا تعالیٰ کو بندہ جذب نہیں کرسکتا۔اس لئے بندوں کے لئے یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہٗ۶۵ یا أَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ۶۶ آتا ہے یَوَدُّوْنَ اللّٰہَ نہیں آتا۔مرد و عورت میں اﷲ تعالیٰ نے مَوّدتْ کا تعلق رکھ کر بتایا کہ ہم نے اس طرح ایک نفس کے دو ٹکڑے بنا کر ایک دوسرے کی طرف کشش پیدا کردی ہے۔اور ہر ٹکڑا دوسرے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اس طرح طبعاً تکمیل انسانیت کی صورت پیدا ہوتی رہتی ہے ورنہ اگر اﷲ تعالیٰ یہ مَوّدتْ پیدا نہ کرتا تو شادی بیاہ کے جھمیلوں سے ڈر کر کئی لوگ شادیاں بھی نہ کرتے اور کہتے کہ کیوں خرچ اٹھائیں۔اور ذمہ داریوں کے نیچے اپنے آپ کو لائیں۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت میں مَوَدَّتْ پیدا کردی ہے اس لئے شادی بیاہ کے جھمیلے برداشت کر لیتے ہیں۔مرد و عورت کے ذریعہ ایک مدرسۂ رحم کا اجراء تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ اس ذریعہ سے رَحْمَۃً پیدا کی گئی ہے۔کیونکہ نفس جس چیز کے متعلق یہ محسوس کرے کہ یہ میری ہے اس سے رحم کا سلوک کرتا