انوارالعلوم (جلد 11) — Page 591
۵۹۱ فضائل القرآن(نمبر ۳) یہ قدرت دی گئی ہے۔کیونکہ بعض خوجے ایسے ہیں جو ماں کے پیٹ ہی سے ایسے پیدا ہوئے اور بعض خوجے ایسے ہیں جنہیں آدمیوں نے خوجہ بنایا۔اور بعض خوجے ایسے ہیں جنہوں نے آسمان کی بادشاہت کے لئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا۔جو قبول کر سکتا ہےوہ قبول کرے۔‘‘۴۶ گویا حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ مرد عورت کا تعلق ادنیٰ درجہ کے لوگوں کا کام ہے اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا انسان بننا چاہے اور آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا چاہے تو اسے چاہئے کہ خوجہ بن جائے۔مطلب یہ کہ اصل نیکی شادی نہ کرنے میں ہے۔ہاں جو برداشت نہ کرسکے وہ شادی کرلے اسی طرح ۱۔کرنتھیوں باب ۷ میں لکھا ہے:- ’’مرد کے لئے اچھا ہے کہ عورت کو نہ چھوئے لیکن حرام کاریوں کے اندیشے سے ہر مرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے۔‘‘۴۷ ’’میں بے بیاہوں اور بیوہ عورتوں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ ان کے لئے ایسا ہی رہنا اچھا ہے جیسا میں ہوں لیکن اگر ضبط نہ کرسکیں تو بیاہ کر لیں۔‘‘۴۸ گویا عورت مرد اگر بِن بیاہے رہیں تو پسندیدہ بات ہے۔یہود میں یوں تو نہیں لکھا لیکن مرد اور عورت کے تعلقات کے متعلق کوئی صاف حکم بھی نہیں۔تورات میں صرف یہ لکھا ہے کہ ’’خداوند نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلے گوشت بھردیا۔اور خداوندخدا اس پسلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔اس سبب سے وہ ناری کہلائے گی۔کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی جورو سے ملا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے۔‘‘۴۹ ان الفاظ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے اس وجہ سے وہ اس سے مل کر ایک بدن ہوجائے گا۔اور مرد کو طبعاً عورت کی طرف رغبت رہے گی۔یہ کہ ان کا مل کر رہنا اچھا ہوگا یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔صرف فطری تعلق کو لیا گیا ہے۔