انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 31

۳۱ کہ ہم اپنی نسلوں میں یہ احساس پیدا ہو نے و ہیں کہ فلایا چیز ہم سے زبردستی چُھرا دی گئی ہے۔اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ ہم اپنی اولاد کو ہمیشہ کے لئے ہندوؤں اور سکھوں کی غلامی میں دے دیں۔پس مو جودہ حالات میں ذبیحہ گاۓ کا سوالی مسلمانوں کے لئے ایسااہم ہے کہ اس پر ان کی اولادوں کی غلامی اور آزادی کا انحصار ہے۔دوسری طرف جو لوگ ذبیحہ گائے کو روکنا چاہتے ہیں وہ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کے احساسات حد سے بڑھے ہوئے ہیں ورنہ ان کا حق نہیں کہ ایسا کریں کیونکہ جو گائے کا گوشت کھانا چاہتے ہیں وہ ان کے مذہب کے لوگ نہیں بلکہ الگ مذہب کے ہیں اور دوسروں پر جبر کرنے کا انہیں کیا حق ہے۔بہرحال انہوں نے جو جبر کا نمونہ دکھایا ہے اس نے مسلمانوں کو بتا دیا ہے کہ یہ ان کی غلامی اور حریت کا سوال ہے اور اس وجہ سے ہم اسے حل کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں تعلیم کی کمی ہے ، ان میں کوئی انتظام نہیں، انہیں پھاڑنے کے کئی طریق برادران وطن جانے اور ان پر عمل کرتے رہتے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں ہم وقت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس لئے کامیاب ہو نگے کیونکہ خدا تعالی کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی پس اگر ہمسایہ قوموں نے ہمارے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا تو ہم نہ صرف پنجاب کے بلکہ سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو منظّم کریں گے تاکہ وہ اپنے حقوق حاصل کریں۔اور غیر مسلموں کے حد سے بڑھے ہوئے احساسات مٹا دیں اس کی ذمہ داری انہی لوگوں پر ہوگی جو اس بات کے لئے مسلمانوں کو مجبور کر رہے ہیں۔ہم نے ان لوگوں کا ہمیشہ بے حد خیال رکھا۔یہاں کے لوگ گواہ ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو یہاں سے اس لئے نکال دیا کہ اس نے گائے کا گوشت فروخت کیا اور جب تک میں نےیہ محسوس نہیں کیا کہ اس کام کی واقعی ضرورت ہے اس وقت تک اس کی اجازت نہیں دی۔ممکن ہے یہاں کے لوگ غصہ کی حالت میں اس کا انکار کر دیں۔جس طرح انہوں نے کہا تھا کہ پہلے گورنمنٹ نے اجازت نہیں دی تھی نہ کہ آپ نے روکا تھا حالانکہ اس وقت میں نے افسروں کو اجازت دینے سے روکا تھا اور میرے پاس قادیان کے ایک معزّز ہندو کا خط موجود ہے جس میں انہوں نے اقرار کیا ہے کہ میں نے ہی پہلے مذبح کو روکا تھا۔غرض ہم نے ہر طرح ان کا خیال رکھا اور لمبے عرصہ تک رکھا۔حالانکہ اس عرصہ میں بھی یہ لوگ ہمیں نقصان پہنچانے کی ہر طرح کوشش کرتے رہے اور میں سمجھتا ہوں جو طریق انہوں نے اس دفعہ اختیار کیا اگر اس کی بجائے اسی طرح ہی میرے پاس آتے تو جس قدر ممکن ہوتا میں ان کا خیال رکھتا۔اور