انوارالعلوم (جلد 11) — Page 588
انوار العلوم جلد 1 ۵۸۸ فضائل القرآن (۳) دینا چاہیے ۔ کیونکہ بعض دفعہ صرف ظاہر کو دیکھ کر یہ پتہ نہیں لگتا کہ فلاں محتاج ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے اسلام نے یہ رکھا کہ کوئی شخص سوال کرے اور اس کو پورا کرنے کی مقدرت ہو تو اُسے دے دینا چاہئے۔ ششم ۔ اپنوں پرائیوں سب کو صدقہ دیا جائے سوائے ان کے جو اس وقت جنگ میں مشغول ہوں تاکہ وہ نقصان نہ پہنچائیں۔ ہفتم ۔ انسانوں کے سوا جانوروں کو بھی جو محروم ہیں جن کی کوئی مالیت نہیں سمجھی جاتی۔ صدقہ سے محروم نہ رکھا جائے کہ خدا تعالیٰ نے ان کا حصہ انسان کے ساتھ شامل کر دیا ہے۔ گویا بوڑھے اور ناکارہ جانوروں کو چارہ اور دانہ ڈالنا بھی صدقات میں شامل ہے اور ثواب کا موجب ہو گا۔ گئو شالہ کو مدد دینا بھی صدقہ ہے مگر اونٹ شالے اور بھینس شالے بھی ہونے چاہئیں۔ بارھویں بات اسلام نے یہ بیان کی کہ حکومت جو صدقات کی تقسیم کے اصول صدقات وصول کرے انہیں کن اصول پر تقسیم کرے۔ اس کے لئے اسلام نے قواعد مقرر کئے ہیں۔ فرمایا تُطَهِّرُ هُمْ وَ تُزَكِّيهِمْ بِهَا ٢٢ یعنی دو اصل تمہارے مد نظر ہونے چاہئیں۔ اول - تُطَهِّرُهُمْ ۔ قوم کی کمزوری دور کرنے کے لئے اور مصیبت زدوں کی مصیبت دور کرنے کے لئے۔ دوم - يُزَكِّيهِمْ بِهَا - قوم کو بلند کرنے کے لئے۔ زکی کے معنے اُٹھانے اور ترقی دینے کے بھی ہوتے ہیں۔ صدقہ دینے اور تیرھویں بات یہ بیان کی کہ صدقہ اور لینے والوں کے تعلقات پر بحث دینے والے اور جنہیں دیا گیا ہو ان کے تعلقات کیا ہوں؟ (1) شریعت نے ایسے مال کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ حصہ جو حکومت کے ہاتھ سے جاتا ہے۔ اس کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ سے گیا ہے۔ یا میرا روپیہ فلاں کو دیا گیا ہے کیونکہ وہ سب کا جمع شدہ مال ہوتا ہے جس میں سے حکومت خود مستحق کو دیتی ہے اس طرح دینے والے کا واسطہ ہی اُڑا دیا گیا ہے اور احسان جتانے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہنے دی۔