انوارالعلوم (جلد 11) — Page 587
۵۸۷ فضائل القرآن(نمبر ۳) ہی صدقہ شمار کر لیا ہے۔سوم صدقہ صرف غرباء کے لئے ہی نہیں رکھا گیا بلکہ ان سے جو مشابہ لوگ ہوں ان کے لئے بھی رکھا ہے۔(الف) مثلاًایک لکھ پتی ہومگر رستہ میں اس کا مال ضائع ہوگیا ہو تو اسے بھی صدقہ دے سکتے ہیں۔اسے قرض اس لئے نہیں دے سکتے کہ کیا پتہ کہ وہ کوئی لٹیرا ہو ااور دغاباز ہے یا ٹھگ ہے۔لیکن صدقہ دے سکتے ہیں کیونکہ اگر ٹھگ اور دغاباز ہوگا تو اس کا وبال اس پر پڑے گا۔(ب)مساکین۔مسکین سے مراد غریب نہیں۔کیونکہ اگر اس کے یہی معنے ہوتے تو پھر للفقراء کیوں فرمایا۔دراصل مسکین سے مرا ایسا شخص ہے جو سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کام نہ کر سکے۔مثلاً ایک شخص ایک فن جانتا ہے مگر وہ فن ایساہے کہ دس ہزار روپے سے کام چل سکتا ہے۔ایسا شخص فقیر تو نہیں کہلاسکتا۔وہ بہرحال کھاتا پیتا ہوگا مگر اپنی لیاقت اور قابلیت سے کام نہ لینے کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکتا۔اگر اسے دس ہزار روپیہ دے دیا جائے تو کام چلا سکتا ہے۔ایسے شخص کو صدقہ کی مد سے حکومت روپیہ دے سکتی ہے خواہ بطور قرض ہو خواہ بطور امداد۔(ج) ایک ایسا شخص ہو جو ہو تو مالدار مگر مقروض ہو۔مثلاً اس کی پچاس ہزار کی تجارت ہو اور دس ہزار اس پر قرض ہو اور قرض والے اپنا روپیہ مانگتے ہوں۔تو اگر وہ سرمایہ میں سے ان کا قرض ادا کردے تو اس کی پچاس ہزار کی تجارت تباہ ہوجاتی ہے ایسے شخص کی بھی صدقہ سے مدد کی جاسکتی ہے۔یا زمیندار ہے اور وہ مقروض ہے۔اگر قرض ادا کرے تو اس کی زمین بک جاتی ہے اور اس کے گذارہ کی کوئی صورت نہیں رہتی اسے بھی صدقہ میں سے مدد دی جاسکتی ہے۔چہارم۔صدقہ میں صدقہ کے عاملوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔کیونکہ جب اسلام نے یہ حکم دیا کہ فلاں فلاں کو صدقہ دینا ضروری ہے تو یہ سوال ہوسکتا تھا کہ پھر صدقہ جمع کون کرے پس ضروری تھا کہ اس کے لئے کارکن ہوں اور ان کی تنخواہیں مقرر کی جائیں بے شک اسے صدقہ نہیں قرار دیا جائے گا مگر صدقہ میں سے ہی ان کی تنخواہیں ادا کی جاسکیں گی۔یہ ایک سوال ہے، جس کی طرف اور کسی مذہب نے توجہ نہیں کی۔یعنی یہ نہیں بتایا کہ صدقہ میں عاملوں کا بھی حق ہے۔پنجم۔یہ بتایا کہ سائل کو بھی محروم نہیں رکھنا چاہیے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سائلوں کو نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس طرح ان کی عادت خراب ہوجاتی ہے لیکن اسلام کہتاہے کہ انہیں