انوارالعلوم (جلد 11) — Page 586
انوار العلوم جلد ! ۵۸۶ فضائل القرآن (۳) کے لئے، مسکینوں کے لئے اور جو ان صدقات کو جمع کرنے والے ہوں ان کے لئے ہیں۔ اسی طرح جو اسلام نہیں لائے ان کیلئے یعنی ان کے کھانے پینے کیلئے ان کی رہائش کے لئے ان کی تعلیم و تربیت کے لئے۔ پھر قیدیوں کے چھڑانے کے لئے۔ قرض داروں کے لئے جو جہاد کے لئے جائیں ان کے لئے اور مسافروں کے لئے ہیں۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے فرض ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اسی طرح فرمایا - لَا يَنْهُكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوْ كُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّنْ دِيَارِ كُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ٢٠٥ یعنی اللہ تمہیں روکتا نہیں کہ تم صدقہ دو ان کو جو تم سے لڑتے نہیں۔ جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں اور وطنوں سے نہیں نکالا۔ تم ان سے نیکی اور انصاف کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے۔ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ مسلمانوں کے مالوں میں حق ہے سوالی کا بھی یعنی جو بول سکتا ہے اور محروم کا بھی یعنی حیوانوں کا جو بول نہیں سکتے۔ پھر فرماتا ہے۔ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهْجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوْا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ان یعنی اے مومنو! کوئی تم میں سے یہ قسم نہ کھائے کہ میں قریبیوں کو اور مساکین کو اور مہاجرین فی سبیل اللہ کو صدقہ نہ دوں گا چاہئے کہ تم در گزر سے کام لو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تمہارے متعلق درگزر سے کام لے۔ پس کسی سے ناراض ہو کر اسے صدقہ سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ اول اسلام نے صدقہ مستحقین کو دینے کا ارشاد فرمایا ہے۔ کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں کیا۔ نہ اس میں کوئی زائد ثواب رکھا ہے۔ دوم اپنے بیگانے میں فرق نہیں کیا۔ اپنوں کے لئے بھی جائز رکھا ہے اور دوسروں کے لئے بھی۔ اس طرح ایسے لوگوں کے خیالات کی تردید کی ہے جو (الف) اپنوں کی خود بھی مدد نہیں کرتے اور صدقہ بھی نہیں دیتے کہ اپنوں کو کس طرح دیں۔ (ب) جو غریب اپنوں کو مدد اور صدقہ ایک ہی وقت میں نہیں دے سکتے انہیں نیکی سے محروم نہیں کیا گیا بلکہ اپنوں کی مدد کو