انوارالعلوم (جلد 11) — Page 580
انوار العلوم جلد ۵۸۰ فضائل القرآن (۳) صدقہ کی ایک غرض اسلام نے یہ بتائی کہ تَثْبِيتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ اس کے ذریعہ قوم مضبوط ہو جاتی ہے۔ اسی طرح نیک لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حبه یعنی نیک وہ ہوتا ہے جو علی حبه مال دیتا رہے۔ کتنے مختصر الفاظ ہیں۔ لیکن ان میں نهایت وسیع مطالب بیان کئے گئے ہیں۔ عَلَى حُبّہ کے معنے یہ ہیں کہ اول اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے۔ چنانچہ پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر موجود ہے۔ گویا وہ مال دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور محبت کی خاطر انہیں اللہ تعالی کی محبت ہوتی ہے اس لئے وہ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرتے ہیں۔ ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ چونکہ ہم خدا تعالٰی سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اس لئے ہم بھی ان سے محبت کریں۔ حبہ کی ضمیر اس شخص کی طرف بھی جاتی ہے جسے مال دیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جسے مال دیتے ہیں اسے ذلیل سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اپنا بھائی سمجھ کر دیتے ہیں۔ وہ مال دیتے تو دوسرے کو ہی ہیں لیکن اسے ذلیل سمجھ کر نہیں بلکہ اس کا حق سمجھ کر دیتے ہیں۔ اسے اپنا بھائی اور اپنا پیارا سمجھ کر دیتے ہیں۔ حبہ کی ضمیر مال دینے کی طرف بھی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ معنے ہوئے کہ وہ مال دینے کی محبت کی وجہ سے دیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں خدا تعالی کی راہ میں مال دینا انتہائی مرغوب ہوتا ہے۔ وہ چٹی سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اس لئے دیتے ہیں کہ انہیں مال دینے سے ایک روحانی سرور اور ذوق حاصل ہوتا ہے۔ اس حبہ کے متعلق دوسری جگہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى ۳۲، کہہ کر بتایا کہ ان کی محبت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم ماں باپ ہیں اور غریب اور محتاج لوگ ہمارے بچے ہیں۔ جیسے ماں اپنے بچہ کو محبت سے دودھ پلاتی ہے نہ کہ کسی طمع سے اس طرح یہ لوگ محتاجوں کو اپنا مال دیتے ہیں۔ دودھ کیا ہوتا ہے ماں کا خون ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی جن عورتوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا وہ کڑھتی رہتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں کوئی ایسا بچہ نہیں ملتا جسے وہ اپنا خون پلائیں۔ تو فرمایا۔ وہ لوگ مال دیتے دیتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ یہ نہیں سمجھتے کہ مال دے کر ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا احسان ہے جو ہم سے مال لیتے ہیں۔ جیسے بچہ جب روٹھ جائے تو ماں اسے مناتی اور کہتی ہے ” میں صدقے