انوارالعلوم (جلد 11) — Page 573
انوار العلوم جلد !! ۵۷۳ فضائل القرآن (۳) کیلئے نہیں ہو سکتی۔ ایسا انسان اگر اپنے اوپر خرچ نہ کرے گا تو وہ گنہگار ہو گا۔ ایک دفعہ رسول کریم میں ہم جہاد کے لئے گئے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ کچھ لوگوں نے روزے رکھے ہوئے تھے اور کچھ نے نہ رکھے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو منزل پر پہنچ کر لیٹ گئے لیکن جو روزہ سے نہ تھے وہ خیمے لگانے اور دوسرے کام کرنے لگ گئے یہ دیکھ کر رسول کریم میں ہم نے فرمایا۔ آج روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے بڑھ گئے۔ ۱۸، پس اسلام کہتا ہے۔ جہاں کھانا مفید ہے اور اس سے خدمت دین میں مدد ملتی ہے وہاں اگر کوئی عمدہ کھانا نہ کھائے گا تو گناہگار ہو گا۔ دیکھو رسول کریم میں ہم جب رات کو سوتے تو مختلف محلوں کے لوگوں نے باریاں تقسیم کی ہوئی تھیں۔ وہ باری باری رات کو آپ کے مکان کا پہرہ دیتے۔ اس کے لئے اجازت دینا رسول کریم یا اللہ کا کام تھا۔ اور صحابہ کا یہ فرض تھا کہ رات کو آپ کی حفاظت انے والا تھا کا لک روم انتظام کرتے۔ کیونکہ رسول کریم میں اللہ کی ذات پر حملہ ہونا اسلام کو نقصان پہنچانے اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم میں اپنی بادشاہت جتلاتے تھے هم اور اپنے لئے پہرہ مقرر کرتے رتے تھے۔ پہرہ آپ کے لئے ضروری تھا اور اس کا مقرر نہ کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاتِ صدقہ و خیرات کی تقسیم کے متعلق ہدایات ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَ ابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا - إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيْطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا - 19 اس میں مندرجہ ذیل باتیں بیان کی گئی ہیں۔ اول۔ انسان مال و دولت بالکل ہی نہ لٹا دے بلکہ اپنے اہل و عیال کے لئے بھی رکھ لے۔ گویا ساری کی ساری خیرات نہ کرے بلکہ اس میں سے کچھ خیرات کرے۔ دوم ۔ اس طرح خیرات نہ کرے کہ اس سے کسی کو فائدہ نہ پہنچے۔ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا کے معنی ہیں۔ بکھیر دیتا۔ اگر دس بھوکے آئیں اور ایک روٹی دینے کے لئے ہو تو سب کو اس کا ایک ایک ٹکڑا دینے سے کسی کے بھی کام نہ آئے گی۔ وہی روٹی اگر ایک کو دیدو اور دوسروں سے کہہ دو کہ یہی ایک روٹی تھی تو یہ بہتر ہو گا۔ یا مثلا بہت سے آدمی بیمار پڑے ہوں اور صرف پانچ گرین کو نین ہو تو سب کو تھوڑی تھوڑی دینے سے کسی کو بھی فائدہ نہ ہو گا لیکن اگر ایک کو دے دی جائے تو اس کے لئے مفید ثابت ہو سکے گی۔ تو فرمایا اول تو یہ حکم ہے کہ سارا مال