انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 572

انوار العلوم جلدا ۵۷۲ فضائل القرآن (۳) اسی لئے ہم نے ایسا انتظام کیا ہے۔ تم ہم سے زیادہ بندوں پر رحم نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے بندوں کی حالت تم سے زیادہ جانتے ہیں اور ان کی حالت کے مطابق ہم نے قانون بنا دیئے ہیں۔ اسی طرح ہاتھ گردن سے باندھنے کا محاورہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ اگر بالکل کچھ نہ دیا جائے تو بھی قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ یعنی اس طرح بھی قوت عملیہ ماری جاتی ہے کیونکہ ایسے محتاج بھی ہو سکتے ہیں جو کام کرنے کی قابلیت بھی رکھتے ہوں ان کو ضرور دینا چاہئے۔ پھر جب تک غرباء کو اٹھایا نہ جائے امراء بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ گویا غرباء کے نہ ابھارنے کی وجہ سے امراء بھی گر جاتے ہیں۔ اور امراء کو مار دینے سے غرباء لاوارث ہو جاتے ہیں۔ پس امراء کا رہنا بھی ضروری ہے گو ان پر غرباء کی مدد کرنا بھی فرض ہے۔ اب دیکھو اسلام نے کس طرح خرچ کی مقدار بھی بتادی اور اس کی دلیل بھی دے دی۔ رو اسراف اور بخل سے بچنے کی نصیحت م ا ا ا ا وا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذلِكَ قَوَامًا ال اس میں بتایا کہ ہمارے بندوں کی درمیانی حالت ہوتی ہے۔ جنہیں ہم مال و دولت دیں ان کا فرض ہے کہ وہ نہ تو اپنی ذات پر ساری کی ساری دولت خرچ کر دیں اور نہ ساری دولت لوگوں کو دے دیں بلکہ ان کی درمیانی حالت ہو۔ وہ کچھ لوگوں پر خرچ کریں اور کچھ اپنے اوپر ۔ اس میں اسلام نے کچھ اپنے اوپر خرچ کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ بعض دفعہ اپنی ذات پر خرچ نہ کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بعض لوگ اعتراض کیا کرتے۔ رتے تھے کہ آر آپ بادام روغن ، مشک اور عنبر وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ آپ ان کے جواب میں سید عبد القادر جیلانی کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے کہ وہ ایک ایک ہزار دینار کے کپڑے پہنتے۔ گویا ۱۶ ہزار روپیہ کا ان کا صرف ایک سوٹ ہوتا تھا۔ اس کے متعلق کسی نے ان سے پوچھا۔ تو انہوں نے فرمایا ۔ میری تو یہ حالت ہے کہ میں کبھی کھانا نہیں کھاتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر ا تجھے میری ذات ہی کی قسم تو کھانا کھا۔ اور میں کوئی کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے یہ نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر ! تجھے میری ذات ہی کی قسم تو فلاں کپڑا پہن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دماغی کام کرتے تھے اور دماغی کام کرنے والے کے لئے جتنی مقویات کی ضرورت ہوتی ہے اتنی کسی اور