انوارالعلوم (جلد 11) — Page 570
۵۷۰ فضائل القرآن(نمبر ۳) دو نتائج ہوں گے۔فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَحْسُوْرًا۔قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ جو بات کہتا ہے ساتھ اس کے دلیل بھی دیتا ہے۔فرمایا۔اگر تو صدقہ نہ دے گا اور کہے گا کہ فلاسفر کہتے ہیں صدقہ نہیں دینا چاہیے یہ لوگوں کے لئے نقصان رساں ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَحْسُوْرًا تیرا دل اور تیرے بڑے چھوٹے سب تجھے ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ تو نے برا کیا۔بھوکے کو کچھ نہ دیا محتاج کی مدد نہ کی حاجتمند کی امداد نہ کی۔اس کے بعد دوسری بات یہ بتائی کہ پھر یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ سب کچھ دے دو حالانکہ انجیل نے کہا تھا کہ سب کچھ دے دینا چاہیے۔اس سے اختلاف کیوں کیا۔اس کی دلیل یہ دی فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَحْسُوْرًا۔حَسَرَ الشَّیْءَ کے معنی ہوتے ہیں کَشَفَہٗ۱۲ اس نے کھول دیا اور حَسَرَ الْغُصْنَ کے معنی ہیں قَشَرَہٗ۱۳۔ٹہنی کے اوپر کا چھلکا اتار دیا۔گویا درخت کی چھال اتار دینے کو حَسَرَکہتے ہیں۔اسی طرح حَسَرَ الْبَعِیْرَ کے معنی ہیں سَاقَہٗ حَتّٰی اَعْیَاھُ۱۴ اونٹ کو ایسا چلایا کہ وہ تھک کر چلنے کے قابل نہ رہا۔جس طرح درخت کی اوپر کی موٹی چھال اتار دینے سے درخت سوکھ جاتا ہے اسی طرح جانور کو اتنا چلایاجائے کہ اس میں چلنے کی طاقت نہ رہے تو وہ بھی نہیں چلے گا۔پس فرمایا خواہ تم کتنا ہی دودنیا میں محتاج پھر بھی رہیں گے۔اگر آج تم سارے کا سارا دے کر تھکے ہوئے اونٹ کی طرح بن جاؤ گے یا چھال اترے ہوئے درخت کی طرح ہو جاؤ گے تو کل کیا کرو گے۔جس طرح روزانہ کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی اعمال کا حال ہے۔پس جو شخص روزانہ نیکی اور تقویٰ میں حصہ لینا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے پاس بھی مال رکھے تاکہ بڑھے اور وہ پھر اس میں سے محتاجوں کو دے۔پھر بڑھے اور پھر دے۔یورپ میں ایسے ایسے تاجر موجود ہیں جو ایک کروڑ روپیہ تجارت میں لگا کر کئی کروڑ نفع کماتے ہیں اور پھر بڑی بڑی رقمیں خیرات میں دیتے ہیں۔اگر وہ اپناسارے کا سارا مال ایک ہی دفعہ دے دیتے اور سرمایہ تک بھی پاس نہ رکھتے تو پھر نفع کس طرح کماتے اور کس طرح بار بار بڑی رقمیں خیراتی کاموں میں دیتے۔پس فرمایا کہ اتنا بھی نہ دو کہ آئندہ سرمایہ پاس نہ رہے اور دوبارہ سرسبز ہونے کے سامان نہ رہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے انگریزوں میں مثل مشہور ہے کہ کسی نے سونے کا انڈا حاصل کرنے کے لئے مرغی مار ڈالی تھی۔کہا جاتا ہے کہ کسی کی مرغی روزانہ ایک سونے کا انڈہ دیتی تھی۔اس نے خیال کیا کہ اگر میں اسے زیادہ کھلاؤں تو ہر روز دو انڈے دے