انوارالعلوم (جلد 11) — Page 567
۵۶۷ فضائل القرآن(نمبر ۳) ہمارے باپ نے اچھا کیا ہم بھی کسی کو کچھ نہیں دیں گے۔خواہ کوئی ہمارے سامنے بھوکا مر جائے۔غرض یہ ایسی تعلیم ہے کہ اگر اس کی تشریح کی جائے تو دنیا کے لئے سخت خطرناک اور نقصان رساں ثابت ہو سکتی ہے۔صدقہ کے متعلق تورات کی تعلیم اب تورات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تورات نے یہ تو نہیں کہا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سارے کا سارا دے دو بلکہ صدقہ کے متعلق یہ تعلیم دی ہے کہ مصیبت زدہ دیکھ کراس کی تکلیف کو دور کر نا چاہیے۔گویا تورات صدقہ کی علت غائی یہ بتاتی ہے کہ مصیبت زدوں کی امداد کی جائے۔پھر تورات صدقہ کی دو قسمیں قرار دیتی ہے۔ایک واجبی اور دوسری نفلی۔یہ انجیل سے یقینا اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے اور دونوں قسم کے صدقے ضروری ہیں بے شک رحم کے ماتحت صدقہ دینا بھی ضروری ہے لیکن اگر رحم کے ماتحت ہی صدقہ دیا جائے تو اس کا برا نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کبر اور نخوت پیدا ہو جاتی ہے۔جب انسان یہ سمجھے کہ میں بڑا اور فلاں چھوٹا ہے اور میں چھوٹے کی امداد کرتا ہوں تو اس طرح کبر پیدا ہوتا ہے کیونکہ انسان خیال کرتا ہے کہ فلاں میرا محتاج ہے۔حالانکہ دنیا کا ہر انسان دوسرے کا محتاج ہے۔دنیوی لحاظ سے سب سے بڑی ہستی بادشاہ کی سمجھی جاتی ہے۔لیکن بادشاہ بھی ماتحتوں کے ذریعہ ہی بادشاہ بنتے ہیں اور وہ ماتحتوں کے محتاج ہوتے ہیں۔اور یہ خیال کہ میں بڑاہوں اور مجھے کسی کی احتیاج نہیں دوسرے لو گ میرے محتاج ہیں اس کی روحانی زندگی کوکچل دینے اور اﷲ تعالیٰ سے دور کر دینے والا خیال ہے۔اس کی بجائے ہمارے اندر یہ خیال پیدا ہونا چاہیے کہ ہم نے اگر کسی کی مدد کی تو اس کی مدد نہیں کی بلکہ اپنی مدد کی ہے۔اور یہ خیال اسی طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ جسے کچھ دیا جائے اس کے متعلق سمجھا جائے کہ یہ اس کا حق تھا۔یا جو کچھ دیا گیا ہے اپنے فائدہ کے لئے دیا گیا ہے۔دیکھوماں اپنے بچہ کو دودھ پلاتی ہے تو اس پر رحم کر کے نہیں پلاتی بلکہ فطرتی جذبہ کے ماتحت پلاتی ہے۔ہاں اگر کسی دوسرے بچہ کو پلاتی ہے تو رحم سے پلاتی ہے۔کئی ایسی مائیں ہوں گی جنہیں اگر یہ کہا جائے کہ تم نے اپنے بچہ کو چھ ماہ تک دودھ پلا لیا۔یہ اس پر کافی رحم ہو گیا اب دودھ پلانا چھوڑ دو تو وہ لڑنے لگ جائیں گی۔کیونکہ ماں بچہ کو فطری محبت سے دودھ پلاتی ہے رحم کے طور پر نہیں پلاتی۔