انوارالعلوم (جلد 11) — Page 547
۵۴۷ بعض اہم اور ضروری امور اگر میں ان کتابوں میں سے کچھ نقل کروں گا تو اس سے میرا دعویٰ ہی غلط ہو جائے گا- پس نقل تو میرے دعویٰ کو باطل کرتی ہے پھر مجھے اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے- کلیدِ قرآن کی ضرورت اسی طرح قرآن کریم کی کلید کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں قرآن کریم کا حافظ ہوں اس لئے قرآن کریم کی کلید کی ضرورت ہوگی- وہ مضمون جو میرے ذہن میں ہوتا ہے وہ دوسروں کو معلوم نہیں ہوتا- مگر ساری آیت مجھے یاد نہیں ہوتی- حافظ روشن علی صاحب مرحوم خدا تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ایک دفعہ لاہور میرے ساتھ تھے- میری ایک تقریر بھی وہاں تھی اس کے لئے میں نوٹ لکھانے لگا تو آیتیں ان سے پوچھتا جاتا تھا- وہ کہنے لگے ان آیات کی بناء پر کیا تقریر ہوگی ان آیات کا تو کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا- میں نے کہا جوڑ جلسہ میں جا کر معلوم ہو گا جب میں تقریر کروں گا- غرض آیات کے نکالنے کے لئے کلید کی ضرورت ہوتی ہے- اپنے لئے اور کڑی شرائط پس میرا چیلنج اب بھی موجود ہے- ہاں میں اپنے لئے اس کی شرطوں کو اور کڑا کر دیتا ہوں- اور چند ایسے معارف کی شرط بھی جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں اڑا دیتا ہوں اور یہ ذمہ لیتا ہوں کہ میری تفسیر میں کوئی نکتہ بھی ایسا نہ ہوگا جو کسی پہلی تفسیر میں ہو- مولوی صاحب یہاں آئیں تو ان کا خرچ ہم خود دیں گے لیکن وہ یہاں نہ آنا چاہیں تو گورداسپور آ جائیں مگر کسی مسجد میں اجتماع نہ ہوگا کیونکہ ان لوگوں کی مسجدوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو ہم خوب جانتے ہیں- علیحدہ مکان میں اجتماع ہو جو فریقین کے لئے مساوی حیثیت رکھتا ہو- اگر وہ گورداسپور آ جائیں جہاں مکان متحدہ ہو تو ان کے کرایہ کے اخراجات ہم دیں گے اور اگر قادیان میں آئیں تو ان کے اور ان کے ساتھیوں کے کھانے پینے کا خرچ بھی ہم دیں گے- ہماری طرف سے صرف یہ شرط ہے کہ ایسے معارف بیان ہوں جن سے قرآن کریم کی افضلیت ثابت ہو، اسلام کی صداقت ثابت ہو- مولوی صاحب نے یہ شرط لگائی ہے کہ تفسیر اور معارف کے لئے ضروری ہوگا کہ علوم عربیہ کے ماتحت ہوں- مگر یہ صاف بات ہے اور ایسا ہی ہونا ضروری ہے- ورنہ مثلاً قرآن کریم میں جو ذالک الکتب ۵؎ آیا ہے- میں- کتاب کے معنی کپڑا لکھوں، تو ہر شخص سمجھے گا کہ یہ غلط ہے- پھر اس شرط کے پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے- اگر علوم عربیہ کے خلاف کوئی بات ہوگی تو وہ فوراً رد ہو جائے گی-