انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 544

۵۴۴ بعض اہم اور ضروری امور مولوی صاحب کے اخراجات بھی ہم ادا کریں گے، جلسہ کا انتظام بھی ہم کریں گے، ان کی جانی اور مالی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہم لیں گے- یہ ہے وہ انکار جو چودھویں صدی کے وارث انبیاء بننے کے دعویدار نے ہمارے متعلق بیان کیا ہے- جس کے متعلق اس زمانہ کے حمقاء بھی کہیں گے کہ اس سے ہماری مثال نہ دو- میرا اصل چیلنج جو اس وقت دیا گیا تھا اور جو اب بھی قائم ہے ۱۶- جولائی ۱۹۲۵ء کے الفضل میں شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے- ‘’غیر احمدی علماء مل کر قرآن کریم کے وہ معارف روحانیہ بیان کریں جو پہلی کسی کتاب میں نہیں ملتے اور جن کے بغیر روحانی تکمیل ناممکن تھی- پھر میں ان کے مقابلہ پر کم سے کم دگنے معارف قرآنیہ بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھے ہیں- اور ان مولویوں کو تو کیا سوجھنے تھے پہلے مفسرین و مصنفین نے بھی نہیں لکھے اگر میں کم سے کم دگنے ایسے معارف نہ لکھ سکوں تو بے شک مولوی صاحبان اعتراض کریں- طریق فیصلہ یہ ہوگا کہ مولوی صاحبان معارف قرآنیہ کی ایک کتاب ایک سال تک لکھ کر شائع کر دیں اور اس کے بعد میں اس پر جرح کروں گا جس کے لئے مجھے چھ ماہ کی مدت ملے گی- اس مدت میں جس قدر باتیں ان کی میرے نزدیک پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں ان کو میں پیش کروں گا- اگر ثالث فیصلہ دیں کہ وہ باتیں واقعہ میں پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں تو اس حصہ کو کاٹ کر صرف وہ حصہ ان کی کتاب کا تسلیم کیا جائے گا جس میں ایسے معارف قرآنیہ ہوں جو پہلی کتب میں پائے نہیں جاتے- اس کے بعد چھ ماہ کے عرصہ میں ایسے معارف قرآنیہ حضرت مسیح موعود علیہالسلام کی کتب سے یا آپ کے مقرر کردہ اصول کی بناء پر لکھوں گا جو پہلے کسی مصنف اسلامی نے نہیں لکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کریں اس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ ان کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود علیہالسلام کی تحریرات سے لئے گئے ہونگے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہونگے- ان علماء کے ان معارف قرآنیہ سے کم از کم دُگنے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں- اگر میں