انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 543

۵۴۳ بعض اہم اور ضروری امور میں میری منظوری سے ایک مضمون شائع کیا گیا جس میں یہ فقرے درج ہیں- ‘’حسب ارشاد حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ حضور کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ اگرچہ آپ نہ دیوبندی ہیں اور نہ دیو بندیوں نے آپ کو اپنا وکیل اور قائم مقام تسلیم کیا ہے تا ہم جیسا کہ الفضل مورخہ ۱۰- ستمبر ۱۹۲۵ء میں دیو بندیوں کے مقابلہ پر نہ آنے کی صورت میں آپ کو اجازت دی گئی ہے- اگر آپ تفسیر نویسی میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ان دو صورتوں میں سے جو الفضل نے پیش کی ہیں- جو صورت چاہیں اختیار فرما لیں- حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو دونوں صورتیں منظور ہیں’‘- پہلی صورت الفضل نے اپنے پرچہ ۱۰- ستمبر ۱۹۲۵ء میں یہ پیش کی ہے کہ چونکہ مولوی ثنائاللہ صاحب نے اپنے اخبار اہلحدیث ۲۱- اگست ۱۹۲۵ء میں لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ علوم ظاہری کے عالم ہیں اور نہ کسی باطنی درجہ کے مدعی ہیں اس لئے انہیں اختیار ہوگا کہ اپنا شبہ دور کرنے کے لئے وہ بالمشافہ تفسیر نویسی کرنا چاہتے ہوں تو قادیان تشریف لے آئیں- ان کے تمام اخراجات مناسب ہم ادا کریں گے اور اگر کسی قسم کی جانی یا مالی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہ ہم پر عائد کریں گے تو اس کے لئے بھی ہم تیار ہوں گے- یہ صورت حضرت خلیفہ المسیح منظور فرماتے ہیں- دوسری صورت الفضل نے یہ پیش کی تھی کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان تشریف نہ لانا چاہیں تو مناسب انتظام کے ساتھ قرعہ اندازی ہونے کے بعد وہ اپنی جگہ قرآنشریف کے ان تین رکوع کی تفسیر لکھیں جو قرعہ اندازی سے منتخب ہونگے اور حضرت خلیفہ المسیح اپنی جگہ انہی منتخب شدہ تین رکوع کی تفسیر لکھیں اور پھر یہ دونوں تفسیریں مساوی خرچ کے ساتھ یکجا کر کے شائع کی جائیں تا کہ دنیا دیکھ لے کہ حضرت مسیح موعود علیہالسلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان نے کیا- قرعہ اندازی ایسے طریق سے ہوگی کہ کسی فریق کو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو اور مقام قرعہ اندازی امرتسر ہی ہوگا- اس دوسری صورت پر بھی حضرت خلیفہ المسیح کو کوئی اعتراض نہیں’‘- یہ ہے حقیقت مولوی صاحب کے دوسرے دعویٰ کی کہ ہم نے ان کی منظوری کے بعد خاموشی اختیار کی بلکہ انکار- کیا صاف انکار ہے؟ انکار اسی کو کہتے ہیں کہ ہم نے کہا