انوارالعلوم (جلد 11) — Page 542
۵۴۲ بعض اہم اور ضروری امور باوجود ان کے قبول کر لینے کے میری طرف سے ہاں نہ پہنچی بلکہ انکار کر دیا- پہلی بات کہ مولوی صاحب نے چیلنج منظور کر لیا تھا- خود ان کی اپنی بات سے رد ہو جاتی ہے- وہ چیلنج منظور نہیں کرتے بلکہ ایک نیا چیلنج دیتے ہیں- چنانچہ باوجود یہ لکھنے کے کہ ان کی طرف سے کوئی شرط نہیں پھر شرطیں پیش کرتے ہیں حالانکہ شرطیں پیش کرنے کا حق چیلنج دینے والے کا ہوتا ہے چیلنج منظور کرنے والے کا نہیں ہوتا- چیلنج منظور کرنے والا یہ تو کہہ سکتا ہے کہ جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ معقول نہیں غلط ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنی طرف سے یہ شرطیں پیش کرتا ہوں- مولوی صاحب کا کام یہ تھا کہ میرے چیلنج میں جو شرائط تھیں ان میں سے جنہیں درست سمجھتے ان کے متعلق اعلان کر دیتے کہ انہیں منظور کرتا ہوں اور جنہیں درست نہ سمجھتے ان کے متعلق ثابت کرتے کہ یہ معقول نہیں- نہ کہ خود شرائط پیش کرنا شروع کر دیتے- یا انہیں یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ جس رنگ میں میں نے چیلنج دیا ہے وہ خدا کی طرف سے موید ہونے کا ثبوت نہیں بن سکتا- پھر وہ خود اپنی طرف سے چیلنج دیتے اور شرائط پیش کرتے- اس پر یا تو میں ان کی شرائط کو غلط ثابت کرتا یا ان کے چیلنج کو قبول کر لیتا- مگر وہ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا چیلنج منظور کر لیا اور دوسری طرف اپنی شرائط پیش کر رہے ہیں- یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسی کہ یہاں کے ایک سادہ مزاج شخص نے جس کا عرف میاں بگا تھا حضرت خلیفہ المسیح الاول کے حضور میں کی تھی- اس نے ایک دن حضرت خلیفہ اول سے آ کر کہا کہ میری شادی کا بہت کچھ انتظام ہو گیا ہے تھوڑی سی بات ہے وہ آپ کر دیں- حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کیا انتظام ہوا ہے؟ کہنے لگا میں اور میری ماں اس امر پر راضی ہو گئے ہیں کہ میرا نکاح ہو جائے اب آپ صرف کسی لڑکی اور روپیہ کا انتظام کر دیں- مولوی ثناء اللہ صاحب کی منظوری بھی ایسی ہی ہے- وہ کہتے ہیں میں نے چیلنج منظور کر لیا مگر میری طرف سے یہ یہ شرط ہے- اس کی بجائے یہی کیوں نہ کہہ دیا کہ چیلنج منظور ہے مگر شرط یہ ہے کہ مقابلہ نہ ہو- جن امور کو وہ پیش کرتے ہیں ان کے متعلق وہ یوں بھی کہہ سکتے تھے کہ تمہارا چیلنج مجھے منظور ہے مگر تم بھی میرا ایک چیلنج منظور کرو- جس کی یہ یہ شرائط ہیں- مولوی صاحب نے یہ جو کہا ہے کہ ان کو جواب نہ دیا گیا تھا اور ہماری طرف سے خاموشی رہی یہ بھی درست نہیں- ان کو جواب دیا گیا تھا- چنانچہ ۲۷- اکتوبر ۱۹۲۵ء کے الفضل