انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 533

۵۳۳ بعض اہم اور ضروری امور اندر سے مدد ملتی ہو- یہ انسانی کمزوری کے ماتحت میرے دل میں خیال پیدا ہوتا- اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لئے دشمن سے ہی ہتھیار چلوایا- فتنہ پرداز لوگ بڑے دعویٰ کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ جماعت کے لوگ انہیں مخفی طور پر مدد دیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے اسے غلط اور محض جھوٹ ثابت کرنے کیلئے ایسا ذریعہ پیدا کرایا اور دشمن کے ہاتھ سے ہی پیدا کرایا کہ اس کا وہ انکار نہ کر سکتا تھا- یہ وہ خبر تھی جو میری موت کی شائع کرائی گئی- اس خبر نے جماعت کے اخلاص اور محبت کے جذبات کو نکال کر باہر رکھ دیا اور اخلاص کی ایسی نمائش ہوئی جو دنیا میں پچھلے سالوں میں بہت کم ہوئی ہوگی- اس خبر کے پھیلانے پر دشمن نے معلوم کر لیا کہ وہ اپنی شرارت میں بالکل ناکام ہو چکا ہے اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ جماعت کے کسی حصہ میں بھی اخلاص کی کوئی کمی نہیں ہوئی- مجھے اس وقت تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں- اس خبر کے شائع ہونے پر جو خطوط آئے اور ہم نے جماعت کے لوگوں کی جو حالت دیکھی اس کی تفسیر الفاظ میں ممکن نہیں اس سے ظاہر ہو گیا کہ جماعت میں جو اخلاص ہے وہ ہمارے اندازہ سے باہر ہے- بہت سے خطوط ایسے آئے جن میں جماعت کے معزز افراد نے لکھا کہ اس خبر کے سنتے ہی انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ ملازمتیں چھوڑ کر بقیہ عمر دین کی خدمت میں صرف کریں گے- یہ انتہائی قربانی تھی اور صحیح قربانی تھی- جس کا ارادہ کیا گیا- انتخاب ِخلافت سب سے بڑی آزمائش ہے جہاں خدا تعالیٰ نے جماعت کو اخلاص کے اظہار کا موقع دیا وہاں یہ بھی بتا دیا کہ انسان آخر انسان ہی ہے خواہ وہ کوئی ہو اور ایک نہ ایک دن اسے اپنے مخلصین سے جدا ہونا پڑتا ہے- اس بات کا احساس بھی خدا تعالیٰ نے جماعت کو کرا دیا- اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ خلیفہ سے جماعت کو جو تعلق ہے وہ جماعت ہی کی بہتری اور بھلائی کے لئے ہے اور جو بھی خلیفہ ہو اس سے تعلق ضروری ہے- یاد رکھو! اسلام اور احمدیت کی امانت کی حفاظت سب سے مقدم ہے اور جماعت کو تیار رہنا چاہئے کہ جب بھی خلفاء کی وفات ہو جماعت اس شخص پر جو سب سے بہترین خدمت دین کر سکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے اور اس سے الہام پانے کے بعد متفق ہو جائے گی- انتخاب خلافت سے بڑی آزمائش مسلمانوں کے لئے اور کوئی نہیں- یہ ایسی ہے جیسے باریک دھار پر چلنا- ذرا سا قدم لڑکھڑانے سے انسان دوزخ میں جا گرتا ہے- غرض انتخاب خلافت سب سے بڑھ کر ذمہ داری ہے جماعت کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری پہچاننی