انوارالعلوم (جلد 11) — Page 493
انوارالعلوم جلد اا ۔ لدمام ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل چاہئے۔ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور وہ خواہ مخواہ وزیر ہند کے کام کو ایک کونسل کے کام کے مشابہ دکھا کر لوگوں کو غلطی میں ڈالتی ہے اور جب اصولاً ہندوستان کی نسبت حکومت خود اختیاری کا فیصلہ ہو گیا تو پھر اس مجلس کی ضرورت بھی نہیں۔ سیکرٹری آف سٹیٹ کا تعلق آئندہ حکومت ہند سے محدود ہو جانا چاہئے۔ یعنی صرف انہی معاملات میں اس کا تعلق گورنر جنرل سے رہے جو ابھی حکومت ہند کے قبضہ میں رہیں گے یعنی پولیٹیکل اور فوج اور فارن یا اس کام کے متعلق جو گورنر جنرل یا گورنروں کے سپرد بحیثیت گورنر جنرل یا گورنر کیا گیا ہو۔ باقی سب امور کا تصفیہ گورنر جنرل ہندوستان میں کریں اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ واری رپورٹ یا ماہواری وزیر ہند کو جایا کرے جس سے انہیں حالات سے آگاہی رہے۔ میں نے جو کچھ اوپر لکھا ہے محض اس نیت سے لکھا ہے کہ شاید ان باتوں سے سے کوئی امر تمه ہندوستان کے نمائندوں یا برطانیہ کے نمائندوں کی توجہ کو کھینچ لے اور اس عظیم الشان سوال کے حل کرنے میں جو اس وقت دو عظیم الشان ملکوں کے سامنے اور جس کے حل ہونے پر خدا تعالی کی تینتیس کروڑ مخلوق کے آرام یا تکلیف کا انحصار ہے میں کچھ حصہ لے کر ثواب کا مستحق ہو جاؤں۔ اور اگر میں کسی جگہ تفصیلات میں پڑا ہوں تو محض اس وجہ سے کہ ان سے میرے مقرر کردہ اصول کی تشریح ہو جائے ورنہ مجھے خوب معلوم ہے کہ سیاسی مسائل بھی دوسرے مسا مسائل کی طرح سینکڑوں طریق پر حل کئے ۔ کئے جا سکتے ہیں اور کسی شخص کا یہ کہنا کہ اس کی بتائی ہوئی تفصیل ہی کام کو درست کر سکتی ہے نرم سے نرم لفظوں میں بھی ایک بے دلیل بات کہلانے کا مستحق ہے۔ ہاں اصول ایک ایسی چیز ہیں جنہیں ہم دعوی کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں اور ان اصول کے متعلق جو میں نے پیش کئے ہیں میں کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت معقول اور منصفانہ ہیں اور ان کو نظر انداز کر کے ہندوستان میں عدل اور انصاف کا قائم کرنا قریباً ناممکن ہے۔ میں آخر میں تمام نمائندگان راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ، ممبران پارلیمنٹ اور ہندوستان اور انگلستان کے بار سوخ افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک اہم ذمہ داری کی ادائیگی اللہ تعالٰی نے ان کے سپرد کی ہے۔ پس تمام قسم کے تعصبات سے بالا ہو کر اس کام کو کرنے کی کوشش کریں تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے نام کو یاد رکھیں اور ا اور ان کے فیصلوں سے سکھ پانے والوں کی دعا ئیں ان کو ہمیشہ پہنچتی رہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے