انوارالعلوم (جلد 11) — Page 489
۴۸۹ تھی- بلکہ نظام اساسی کا حصہ تھی- جسے قانون سازی کا اختیار حاصل تھا’‘-۶۵؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ جرمن سینٹ کی ساخت ایسی تھی جیسے کہ سفیروں کی کونسل کی ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی اسے قانون پاس کرنے کی بھی اجازت تھی اور اسی قسم کی کونسل کی اس وقت ریاستوں کو ضرورت ہے- یعنی اس کے نمائندے والیان ریاست کے نمائندے ہوں اور انہیں ووٹ کا حق ذاتی حیثیت میں حاصل نہ ہو بلکہ ریاست کا نمائندہ ہونے کی حیثیت میں ہو اور جب ریاست چاہے پہلے نمائندہ کو واپس بلا لے اور نیا نمائندہ بھیج دے اور اگر ایک نمائندہ غیر حاضر ہو تو دوسرا اس کا ووٹ بھی دے دے کیونکہ ووٹ نمائندہ کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے- اس طریق عمل کو اختیار کر کے ریاستیں پہلا قدم فیڈریشن کے اصول کی طرف اٹھا سکتی ہیں ورنہ ان کا اتحاد مشکل ہے کیونکہ حیدر آباد، میسور، کشمیر، بڑودہ وغیرہ بڑی ریاستیں جب قانون ساز مجالس کے بنانے کا سوال آئے گا ضرور اپنی بڑائی کا سوال اٹھائیں گی پس ان کے مطالبہ کا حل اور چھوٹی ریاستوں کے حقوق کی حفاظت مذکورہ بالا اصل کے ماتحت ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اس نظام کے ماتحت بڑی ریاستوں کو ایک حد تک زائد نمائندگی بھی مل سکتی ہے اور پھر ریاستوں میں جو شخصی حکومت کا طریق ہے اس کے قائم رہتے ہوئے ایک نمائندہ مجلس بھی تیار ہو سکتی ہے- مجھے معلوم ہے کہ بعض ریاستیں ہندوستانی فیڈریشن میں شامل ہونے کو تیار ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے جب تک ریاستیں پولیٹیکل سیکرٹری کے ماتحت ہیں اور جب تک ان کے نمائندوں کو والیان ریاست نے خود چننا ہے اور جب تک ان کے نمائندوں کی رائے والیانِ ریاست کے تابع رہنی ہے اس وقت تک ہندوستان کی آزادی کو خطرہ میں ڈالے بغیر وہ ہندوستانی فیڈریشن میں شامل نہیں ہو سکتیں- ان سوالات کو وہ حل کر دیں تو پھر ان کے فیڈریشن میں شامل ہونے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا- لیکن جب تک یہ نہ ہو تو صرف یہی طریق ہے کہ وہ بھی صوبہ جاتی اور مرکزی اصول پر ایک تقسیم اپنے کاموں کی کریں- صوبہ جاتی قسم کے کاموں میں ہر ریاست خود مختار ہو- مرکزی قسم کے کاموں میں وہ مرکزی مجلس کے فیصلوں کی پابند ہو- اس مرکزی مجلس کی ایگزیکٹو نمائندگی کے اصول پر ہو اور اکثریت کی نمائندہ ہو- وہ امور جن کے متعلق یہ مجلس اور برطانوی ہند اشتراکِ عمل کا فیصلہ کر