انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 477

۴۷۷ حفاظت نہیں بلکہ ایمپائر (EMPIRE) کی حفاظت ہے اس لئے ہندوستانی فوج کو ایمپائر کے نقطہنگاہ سے ہی دیکھنا چاہئے اور اس دلیل کو قائم کر کے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ آئندہ ہندوستان سے ایک مقررہ رقم فوج کے اخراجات کی لی جائے باقی انگلستان ادا کرے لیکن باوجود پورا غور کرنے کے میں کمیشن کی اس دلیل کو نہیں سمجھا- میں یہ تو تسلیم کرتا ہوں کہ ہندوستان برطانوی ایمپائر کا ایک اہم حصہ ہے لیکن یہ امر کہ اس کی حفاظت کا سوال اس سے زیادہ امپیریل ہے جس قدر کہ آسٹریلیا یا کینیڈا کی حفاظت کا سوال میری سمجھ سے باہر ہے- کمیشن نے تحریر کیا ہے کہ ہندوستان کے اعمال کا ہی ہندوستان کی سرحدوں پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ دوسری جگہوں پر بھی اگر برطانوی امپائر کا کسی سے جھگڑا ہوا تو ہندوستان پر اس کا اثر پڑے گا- اس وجہ سے یہ امپیریل کا سوال ہے- اگر اس وجہ سے یہ سوال امپیریل ہے تو پھر بجائے ہندوستان کو اس کے جائز حق سے محروم کرنے کے یہ چاہئے تھا کہ سب برطانوی علاقے اس کی مالی امداد کرتے لیکن کمیشن تجویز یہ کرتا ہے کہ اس وجہ سے اس کی فوجیں برطانوی محکمہ جنگ کے ماتحت رہنی چاہئیں- یہ ایسی ہی دلیل ہے جیسے کہ ڈومینین (DOMINION) حکومتیں کسی وقت یہ کہہ دیں کہ چونکہ برطانوی امپائر کی حفاظت میں بحری فوج کا بہت کچھ دخل ہے اس لئے اس کا بحری انتظام نوآبادیوں کی ایک کمیٹی کے سپرد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مطمئن رہے کہ انتظام ٹھیک ہے- اگر ہندوستان کو یہ یقین ہو جائے کہ برطانوی حکومت کا ایک قیمتی حصہ بننے کے یہ معنے ہیں کہ اسے آزادی سے محروم رکھا جائے تو ہندوستان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اس تعلق کو قدر کی نگاہ سے دیکھے- ہندوستانی اسی وقت تک برطانوی تعلق کو قدر سے دیکھتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں جب تک وہ اسے ترقی اور آزادی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسی وقت تک وہ برطانوی امپائر کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں- پس ایسی کوئی سکیم خواہ فوج کے متعلق ہو، خواہ کسی اور محکمہ کی نسبت جو عملاً ہندوستان کو آزادی سے محروم کر دے کسی صورت میں ہندوستان اور انگلستان میں اچھے تعلقات پیدا کرنے میں ممد نہیں ہو سکتی اور ایسی سکیم کو کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جا سکتا- پس میرے نزدیک ہندوستانی فوج کو بھی ایسے طریق پر چلانا چاہئے جس سے وہ ایک دن ہندوستان کی مجالس حکومت کے ماتحت لائی جا سکے- یہ یقینی بات ہے کہ جب ایسا دن آیا اس