انوارالعلوم (جلد 11) — Page 468
۴۶۸ (۱) کونسل آف سٹیٹ کے ممبر اسمبلی سے ایک تہائی ہوا کریں- (۲) ان میں سے ۵/۴ ممبر صوبہ جات کی کونسلیں منتخب کیا کریں اور ۱۰/۱ ممبر گورنر جنرل انکونسل( GOVERNOR GENERAL IN COUNCIL) ایسے لوگوں میں سے جنہوں نے علمی یا عملی خدمت ملک کی کی ہو یا زمیندارہ، تجارت وغیرہ خاص مفاد کی نیابت کرنے والے لوگوں میں سے نامزد کریں- ان نامزد شدہ ممبروں میں قومی توازن کو قائم رکھا جائے- کونسلوں کی نمائندگی علاقہ کے اصول پر ہو اور ہر ایک صوبہ خواہ بڑا ہو، خواہ چھوٹا ہو اسے برابر کے ممبر بھیجنے کا اختیار ہو- ووٹنگ واحد قابل انتقال ووٹ کے اصول پر ہو- اگر اسے کسی وجہ سے پسند نہ کیا جائے تو ‘’انتخاب مطابق تعداد’‘ کے طریق کو اختیار کر لیا جائے- لیکن میرے نزدیک اقلیتوں کے فوائد کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے پہلا طریق زیادہ مفید ہو گا- مگر یہ امور مختلف اقوام کے نمائندے بحث کے بعد بہتر طور پر طے کر سکتے ہیں- شاید اس پر اعتراض ہو کہ اب کیوں میں نے مخلوط انتخاب کے طریق کو پسند کر لیا ہے- تو اس کا جواب یہ ہے کہ دوسری مجلس کا انتخاب علاقہ کے اصول پر ہوتا ہے اور پہلی کا افراد پر- اس لئے پہلی چیمبر کے انتخاب پر جو افراد کی نمائندہ تھی مجھے اعتراض تھا- دوسری چونکہ افراد کی نمائندہ ہی نہیں ہے- اس میں مخلوط انتخاب پر مجھے اعتراض نہیں- گو ‘’انتخاب مطابق تعداد’‘ پر اعتراض ہے کیونکہ اس طرح اسلامی صوبوں کے الگ بنانے میں جو زائد حفاظت مسلمانوں کے حقوق کی مدنظر رکھی گئی تھی وہ کمزور ہو جائے گی- جو ممبر گورنر جنرل نامزد کریں ان کے متعلق انہیں اختیار ہو کہ خواہ ایک عرصہ انتخاب کے لئے منتخب کریں خواہ عمر بھر کے لئے مقرر کریں کیونکہ کچھ لائف ممبروں کا مقرر ہونا بھی ایسی کونسل میں مفید ہوتا ہے- اس سے قومی کاموں میں خاص طور پر حصہ لینے کا شوق بھی لوگوں میں پیدا ہو گا کیونکہ سمجھا جائے گا کہ خاص خدمت کرنے والوں کو ملک میں دائمی حق نیابت کی صورت میں اعزاز دیا جاتا ہے- (۳) کونسل آف سٹیٹ کی عمر سات سال ہوا کرے تاکہ جس وقت اسمبلی کا انتخاب ہو رہا ہو ایک مجلس ایگزیکٹو مدد دینے کے لئے موجود رہے-