انوارالعلوم (جلد 11) — Page 467
۴۶۷ میں اس موقع پر یہ امر بھی بیان کرنے سے نہیں رہ سکتا کہ اسمبلی میں مقامی کونسلوں کی نمائندگی کی تجویز سب سے پہلے میری طرف سے ہی سائمن کمیشن کے سامنے پیش کی گئی تھی- چنانچہ احمدیہ جماعت کی طرف سے جو میمورنڈم (MEMORANDUM )سائمن کمیشن کو بھیجا گیا تھا اس کے یہ الفاظ ہیں- ‘’علاوہ ازیں ہماری رائے میں یہ مناسب ہے کہ صوبہ جاتی کونسلوں کو مرکزیمجالس میں نیابت حاصل ہو کیونکہ اس سے فیڈریشن کے صحیح نشوونما میں مدد مل سکتی ہے- اس سے یقیناً صوبہ جاتی کونسلوں اور مرکزی اسمبلی میں زیادہ رابطہ و اتحاد پیدا ہو جائے گا جو دونوں کے لئے مفید ہو گا’‘- ۶۴؎ میری اس رائے کو پنجاب سائمن کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں شامل کر لیا- پس اس خیال کا بانی میں ہی ہوں لیکن باوجود اس کے میں سائمن کمیشن کی سفارش کا مخالف ہوں- اس لئے کہ میری سفارش اس اصل پر مبنی تھی کہ-: (۱) کونسل آف سٹیٹ کی موجودہ شکل بے اصول ہے اس کو توڑ دیا جائے اور اس کی جگہ اسمبلی میں ایک حد تک کونسلوں کو نمائندگی دے کر دونوں ضرورتیں اسمبلی میں پوری کر لی جائیں- (۲) سب ممبر نہیں بلکہ کچھ ممبر کونسلوں سے لئے جائیں- باقی براہ راست منتخب ہوں- پس میری سفارش سیاسی اصول پر مبنی تھی لیکن سائمن کمیشن کی سفارش کسی اصل پر مبنی نہیں- اس نے کونسل آف سٹیٹ کو بھی قائم رکھا ہے اور اسمبلی کے قریباً سب ممبر کونسلوں سے بھیجنے کی سفارش کی ہے- کونسل آف سٹیٹ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ کونسل آف سٹیٹ کی موجودہ شکل بالکل غیراصولی ہے- اس کا کوئی خاص کام نہیں جس کی وجہ سے اسے قائم رکھا جائے- اس وجہ سے میری رائے شروع سے یہ رہی ہے کہ اگر اس کی صورت بدلی نہ جائے تو اس کو توڑ دیا جائے- سائمن کمیشن نے اس میں کچھ اصلاح کی ہے لیکن ویسی ہی صورت اسمبلی کے متعلق پیدا کر کے بھی اس کی غرض کو باطل کر دیا ہے- پس میرے نزدیک ضرورت ہے کہ اسمبلی کی نشستیں تو براہ راست انتخاب کے ذریعہ سے پر کی جائیں اور کونسل آف سٹیٹ کا انتخاب اس سے مختلف ہو- میں اس کے لئے مندرجہ ذیل تجویز پیش کرتا ہوں-