انوارالعلوم (جلد 11) — Page 456
۴۵۶ طرح اسمبلی کی موجودہ صورت نہ تربیت کا موجب ہوتی ہے نہ ملک کی تسلی کا اس لئے ضرورت ہے کہ دونوں مجالس میں کچھ اصلاح کی جائے تا کہ وہ ان مقاصد کو پورا کر سکیں جن کے لئے انہیں قائم کیا گیا ہے- اسمبلی سائمن کمیشن کی رپورٹ ہے کہ (۱) اسمبلی آئندہ فیڈرل اسمبلی (FEDERAL ASSEMBLY) کہلائے- (۲) اس کے ممبروں کی تعداد اڑھائی سو سے دو سو اسی تک بڑھا دی جائے- (۳) اس کے ممبروں کا انتخاب بجائے براہ راست ہونے کے بالواسطہ ہو یعنی صوبہ جات کی کونسلوں کے ممبر اس کے ممبر منتخب کریں- خواہ اپنے ممبروں میں سے خواہ دوسرے لوگوں میں سے لیکن جس کو بھی وہ چنیں وہ کونسل کا ووٹر ضرور ہو- (۴) ان کا انتخاب ‘’نمائندگی بلحاظ تناسب’‘ کے اصول پر ہو- جس کی وجہ سے ہر اقلیت کو اس کا حق مل جائے گا- (۵) اگر کونسل کا کوئی ممبر اسمبلی کے لئے ممبر چنا جائے تو ضروری نہیں ہوگا کہ وہ کونسل کی ممبری سے استعفی دے- اگر کونسل کے ساتھ اسمبلی میں بھی کام کرنا چاہے تو کر سکتا ہے- (۶) ممبروں کے اخراجات صوبہ جات کے ہی ذمہ ڈالے جائیں گے- اس تبدیلی کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ:- (۱) اسمبلی کے ممبروں کی تعداد کو بڑھانے کے باوجود ان کا حلقہ انتخاب بہت بڑا ہوگا اس وجہ سے ممبر اپنے ووٹروں سے تعلق نہیں رکھ سکے گا- (۲) اتحادی اصول پر حکومت کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے ضروری ہے کہ صوبہ جات کی نمائندگی مرکز میں بہ حیثیت علاقہ کے ہو- (۳) عام ہندوستانی مرکزی کاموں کی نگرانی نہیں کر سکتا- جب اسمبلی کے ممبروں کو کونسل کے ممبر منتخب کریں گے جو زیادہ سمجھدار اور پڑھے لکھے ہوتے ہیں تو اسمبلی کے ممبروں کو خیال رہے گا کہ ہمارے کام کی نگرانی کی جا رہی ہے- اسمبلی کا نام فیڈرل اسمبلی ہو تو اچھا ہے کیونکہ اس سے اسمبلی کے ممبروں کو یہ خیال رہے گا کہ آئندہ ہندوستان کی حکومت اتحادی اصول پر چلائی جائے گی- ممبروں کی تعداد کا بڑھانا بھی ضروری ہے اور میرے نزدیک دو سو اسی (۲۸۰( بھی نہیں تین سو ممبر ہونے چاہئیں بلکہ اگر اس سے بھی بڑھا دیئے جائیں تو کچھ حرج نہیں- ہندوستان سے بہت چھوٹے ممالک کی قانون ساز مجالس کے بہت زیادہ ممبر ہوتے ہیں- پس جس قدر زیادہ ممبر کام کی سہولت کو مدنظر