انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 451

انوار العلوم جلد ۳۵۱ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل اپنے کہنے پر دخل دے گی تو قانون صرف اس صوبہ کے لئے ہو گا اور اس وجہ سے اس علاقہ کے لوگوں کی ضرورتوں کا اس میں پورا لحاظ رکھا جا سکے گا۔ جس طرح قانون اساسی کا بنانا اقلیتوں اور صوبوں کے حقوق کی قانون اساسی کی تبدیلی حفاظت کیلئے ضروری ہے اسی طرح اس میں تبدیلی کے قواعد بھی ان کے لئے بھی اور ملک کے لئے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کیلئے اس طرح کہ اگر قانون اساسی کا بدلنا حد - بدلنا حد سے زیادہ آسان ہو تو قانوں قانون اساسی کا سب فائدہ ان کیلئے باطل ہو جاتا ہے اور ملک کے لئے اس طرح کہ اگر اس کا بدلنا حد سے زیادہ مشکل ہو تو ملک بعض اوقات اپنی اشد ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کر سکتا اور اس کی ترقی رک جاتی ہے۔ پس ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون اساسی بنانا چاہئے اور دونوں نقصوں سے اسے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میرے نزدیک وہ طریق جس سے یہ دونوں نقص پیدا نہیں ہو سکیں گے یہ ہے (1) جو تبدیلی ایسی ہو کہ اس کا اثر کسی خاص صوبہ پر پڑتا ہو جیسے کسی صوبہ کے علاقہ میں تبدیلی کرنا اس کے لئے تو یہ شرط ہو کہ دو تہائی حقیقی اکثریت کے ساتھ اگر دونوں مرکزی مجالس اسے منظور کریں اور پھر اس صوبہ کی مجلس تین چوتھائی حقیقی اکثریت سے اسے منظور کرے تو وہ تبدیل ہو جائے۔ (۲) اگر وہ تبدیلی جو تجویز کی گئی ہو کسی خاص صوبہ سے تعلق نہ رکھتی ہو بلکہ اس کا اثر سب صوبوں پر پڑتا ہو تو مرکزی مجالس کی دو تہائی حقیقی اکثریت کے بعد دو تہائی صوبوں کی مجالس اگر دو دو تہائی حقیقی اکثریت سے اس تبدیلی کو قبول کر لیں تو قانون اساسی میں اس کے مطابق تبدیلی کر دی جائے لیکن مزید شرط یہ ہو کہ مرکزی مجالس کے فیصلہ کی تاریخ سے لے کر دو سال کے اندر صوبہ جاتی مجالس شرائط مذکورہ بالا کے مطابق تصدیق کر دیں۔ اگر دو سال کے اندر صوبہ جات کی طرف سے مقررہ قواعد کے مطابق تصدیق نہ ہو تو وہ قانون باطل سمجھا جائے اور جب تک اسمبلی کا دوبارہ انتخاب نہ ہو جائے تب تک اس سوال کو دوبارہ پیش کرنے کی اجازت بھی نہ ہو ۔ (۳) کچھ ایسے حصے بھی قانون اساسی میں ہونگے جن کے مطابق قطعی طور پر یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ ان کے متعلق کسی صورت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی جیسے کہ مذہب کی