انوارالعلوم (جلد 11) — Page 17
انوار العلوم جلد !! 12 ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہتے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہئے فرموده ۳۰ ۔ ستمبر ۱۹۲۹ء بمقام جموں کشمیر) ۳۰۔ ستمبر کشمیر سے واپس آتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو بوجہ لاریوں کے وقت پر نہ پہنچنے کے جموں ٹھرنا پڑا اس موقع پر احباب جموں نے حضور کی تقریر کا انتظام کیا۔ تشهد و تعوذ اور تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے منشاء کے ماتحت باوجود اس کوشش کے کہ میں یہاں سے کل ہی روانہ ہو جانا چاہتا تھا مجھے ایک دن کے لئے اس مقام پر ٹھہرنا پڑا۔ میرے دل میں خواہش تھی کہ میں اس مقام کو دیکھوں اس لئے کہ ہماری جماعت کے پہلے خلیفہ اور امام حضرت مولوی نورالدین ایک عرصہ تک اس میں رہے ہیں اور جیسا کہ عام قاعدہ ہے انسان اپنے پیاروں کے مقامات کو دیکھتا ہے۔ مجھے مدت سے اس کا خیال تھا مگر ہر کام کے لئے وقت مقرر ہوتا ہے۔ جب میری خواہش تھی میں نہ آسکا مگر اب بغیر اپنی خواہش کے مجبوراً مجھے ٹھرنا پڑا۔ ہمارے یہاں کے دوستوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں ان اصحاب کی خاطر جو ابھی سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے کچھ بیان کروں۔ خدا کی حکمت ہے میں سمجھتا تھا میرا وقت ضائع گیا۔ مگر اب خدا نے یہ تقریب پیدا کر دی ہے۔ ممکن ہے میرے اس بیان میں بعض ان لوگوں کو جنہیں تحقیق حق مطلوب ہو کوئی مفید بات معلوم ہو اور وہ فائدہ اٹھائیں۔ میرے نزدیک مذہب کی غرض فتنہ و فساد پیدا کرنا نہیں بلکہ مذہب دلوں کی مذہب کی غرض صفائی کے لئے ہوتا ہے۔ اگر فتنہ غرض ہوتی تو اسے شیطان باحسن طریق سر انجام دے سکتا تھا۔ مگرند ہب کی ہر گز یہ غرض نہیں۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اسلم جنہوں نے اپنی جوانی کی زندگی اپنی قوم کی بھلائی میں خرچ