انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 442

۴۴۲ اختیارات جو یونائیٹڈسٹیٹس کی ریاستوں سے بھی کم ہیں انہیں دیئے ہیں- پھر وہ بقیہ اختیارات جو ہر حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں انہوں نے کس غرض کے لئے علیحدہ رکھے ہیں- کیا اسی لئے نہیں کہ وہ مرکز کے پاس رہیں گے- پس اس طرح کیا انہوں نے نادانستہ طور پر ایک کانسٹیچیوشن (CONSTITIUTION) تیار نہیں کر دی- وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ عارضی انتظام ہے- کیونکہ ان کی سکیم میں ایسی کوئی تجویز نظر نہیں آتی کہ کسی وقت صوبہ جات الگ الگ ٹیکس لگا سکیں گے- یا ڈاک خانے نکال سکیں گے یا ریلیں جاری کر سکیں گے بلکہ جو کچھ صوبہ جات کے پاس اس وقت ہے اس میں سے بھی کچھ حصہ انہوں نے لے لیا ہے جیسے ہائیکورٹوں کا انتظام وغیرہ- پس آئندہ دس بیس سال کے بعد جب بھی ان کی سکیم کے مطابق صوبہ جات مشورہ کے لئے اکٹھے ہوں گے تو وہ کیا کریں گے- کیا وہ اپنے موجودہ اختیارات میں سے مرکز کو کچھ دیں گے ہرگز نہیں، وہ تو پہلے ہی نہایت محدود ہیں- یا کیا وہ اس لئے اکٹھے ہوں گے کہ مرکز کے اختیارات میں سے کچھ خود لے لیں- اگر یہ صورت مدنظر ہے تو کیوں ابھی سے ان چیزوں کو صوبہ جات کے حوالے نہیں کر دیا جاتا کیونکہ اتحادی اصول کے ماتحت تو تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہوتے ہیں- یا کیا وہ صرف موجودہ حالات کی تصدیق ہی کریں گے- اگر یہ امر ہے تو پھر کانسٹی چیوشن کا تو فیصلہ ہو چکا بعد میں صوبہ جات نے اکٹھے ہو کر کیا کرنا ہے- غرض گو عام حالات میں اسی طرح عمل ہوتا ہے جس طرح سائمن کمیشن نے لکھا ہے لکین چونکہ ہندوستان میں ایک پہلے سے قائم شدہ حکومت کو بغیر توڑنے کے ایک نئی شکل دینی ہے اس لئے کوئی اعتراض کی بات نہیں اگر ایک ہی وقت میں دونوں حصوں کے لئے سکیم تیار کی جائے بلکہ ہندوستان کے حالات کے لحاظ سے یہ امر ضروری ہے- کیونکہ اگر بغیر سکیم تیار کرنے کے اس وقت مرکز کو چھوڑ دیا گیا تو صوبہ جات تو یہ خیال کرتے رہیں گے کہ یہ انتظام عارضی ہے اور اسی وقت تک ہے جب تک کہ گورنر جنرل کے ہاتھ میں اختیارات ہیں اور ادھر اسمبلی آہستہ آہستہ طاقت پکڑ کر سب اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لے گی اور اس وقت نہ برطانیہ صوبہ جات کا ساتھ دے سکے گا اور نہ صوبہ جات ہی میں طاقت ہو گی کہ مرکزی حکومت سے اختیارات تقسیم کرا سکیں- نتیجہ یہ ہو گا کہ لاعلمی میں ہی اتحادی حکومت اتصالی کی شکل اختیار کرے گی اور زیادہ سے زیادہ اس کی شکل ساؤتھ افریقہ (SOUTH AFRICA) کی حکومت کی طرح کی ہو جائے گی- جسے مسلمان اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ہندوستان میں بسنے