انوارالعلوم (جلد 11) — Page 438
۴۳۸ گہرائیوں کو میرے لئے روشن کر دیا- جو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ ہندوستانی انگریزوں کو اجنبی سمجھیں بلکہ چاہتا تھا کہ دونوں قوموں کو محبت کی مضبوط رسی سے اس طرح باندھ دیا جائے کہ وہ پیوندی درخت کی طرح ایک ہی درخت بن جائیں اسے انگریزی قوم کا دشمن قرار دیا جاتا ہے- بے شک بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے زمانہ کے لوگ ان کی قدر نہیں کرتے بعد میں آنے والے لوگ ان کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اسی قسم کے لوگوں میں سے مسٹر مانٹیگو تھے- ایک وقت وہ تھا کہ ہندوستانی خیال کرتے تھے کہ انہوں نے ہندوستانیوں کو دھوکا دیا ہے- پھر انگریزوں میں سے بہتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ انہوں نے اپنی قوم کے فوائد کو قربان کر دیا ہے لیکن اب بہت سے ہندوستانی اپنی غلطی کو جان چکے ہیں اور بہت سے انگریز آئندہ جان لیں گے- بہر حال اس واقعہ کے بیان کرنے سے میرا مطلب یہ تھا کہ اگر برطانوی نظام کی واقعہ میں کوئی قیمت ہے اور ہندوستان اس میں پرویا جانا چاہتا ہے تو ہمیں اس کے افراد کے اندر وہی احساس پیدا کرنا چاہئے جس کا اظہار مسٹر مانٹیگو نے میرے سامنے کیا- تب اور صرف تب ان مختلف المقام اقوام کے اتحاد کی اصل غرض پوری ہو سکتی ہے- جس کا نصب العین صرف چند اقوام کو جمع کرنا نہیں بلکہ بنی نوع انسان کو محدود دائروں سے نکال کر انسانیت کے وسیع دائرہ میں لا کر کھڑا کرنا ہے- میں یہ نہیں کہتا کہ ہر انگریز اس حقیقت کو سمجھتا ہے نہ یہ کہتا ہوں کہ کوئی انگریر بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتا- میں تو صرف قدرت کے اشارہ کی تشریح کرتا ہوں- دل خواہ منزل مقصود کی تڑپ سے خالی ہوں، دماغ خواہ اس کے خیال سے ناواقف ہوں، مگر ایک زبردست طاقت قدموں کو ادھر کی طرف اٹھا رہی ہے- ان باہمت لوگوں کا جو قدرت کے اشاروں کو سمجھتے ہیں کام ہے کہ اس بے مقصد بہنے والے پانی کی رو کو حدوں میں لا کر ایک آبشار کی صورت میں بدل دیں اور اس کی غیر محدود طاقت کو دنیا کے فائدہ کے لئے استعمال کریں- اے کاش! میری بات کو کوئی سمجھنے والا ہو- شاید بعض لوگ خیال کریں کہ میں اپنے مضمون سے باہر چلا گیا ہوں لیکن میں اپنے مضمون سے باہر نہیں گیا- گو ممکن ہے بعض لوگ میرے ساتھ نہ مل سکے ہوں میرا مطلب یہ تھا کہ اگر کسی ا مپائر کا حقیقی طور پر ہم کو حصہ بننا ہے تو ہمیں قومیت کے متعلق بھی اپنے نقطہ نگاہ کو بدل دینا چاہئے اور جب تک نئے حالات ظاہر ہو کر اتحاد کی نئی صورتیں پیدا نہ کر دیں، اس