انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 432

۴۳۲ باب پنجم ملازمتیں سائمن کمیشن نے اپنی رپورٹ کی جلد دو کے نویں باب میں ملازمتوں کے مستقبل پر بحث کی ہے- گو اس نے اس باب کو مستقل جگہ دی ہے لیکن میں جوخیالات ظاہر کرنا چاہتا ہوں ان کی رو سے اس بحث کی جگہ صوبہ جاتی کونسلوں کے ماتحت ہی آتی ہے- کمیشن کی رپورٹ پر تمام منتقل شدہ محکموں کی بھرتی صوبہ جات کے سپرد کر دی گئی تھی سوائے طبی محکمہ کے کہ اس کی بھرتی کا ایک حصہ آل انڈیا بھرتی کے اصول پر قائم رکھا گیا تھا کیونکہ یہ کہا گیا تھا کہ جب تک انگریز اس ملک میں کام کرتے ہیں، یہ ضروری ہے کہ ان کا علاج کرنے کے لئے انگریز ڈاکٹر بھی رہیں اور دوسرے یہ خیال کیا گیا تھا کہ جنگ کے دنوں میں طبی محکمہ پر بہت کچھ دارو مدار ہوتا ہے اگر آئندہ کوئی جنگ ہو اور اس وقت کافی تعداد میں لائق ڈاکٹر نہ ملے تو جنگ کا انتظام درہم برہم ہو جائے گا- پس ہر صوبہ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ کچھ تعداد فوجی ڈاکٹروں کی ضرور ملازم رکھے- لیکن محفوظ محکمہ جات کی بھرتی بدستور آل انڈیا بھرتی کے اصول پر رکھی گئی تھی- یعنی ان محکموں کی بھرتی اب تک وزیر ہند کی وساطت سے کی جاتی ہے اور صوبہ کے لئے ان کی تعداد گورنمنٹ آف انڈیا صوبہ جات کے مشورہ سے مقرر کرتی ہے اور اس تعیین میں وہ اپنی ضرورتوں کو بھی مدنظر رکھتی ہے کیونکہ گورنمنٹ آف انڈیا کے محکموں کے لئے کوئی الگ بھرتی نہیں ہوتی- اس بھرتی کے طریق میں کئی فوائد سمجھے جاتے ہیں- ایک یہ کہ اس طرح ضرورت کے موقع پر ایک افسر کی خدمات بغیر اس کے حقوق وغیرہ کے جھگڑوں کے ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ کی طرف منتقل کی جا سکتی ہیں- دوسرے یہ کہ چھوٹے علاقوں کے لئے جو گورنروں کے