انوارالعلوم (جلد 11) — Page 427
۴۲۷ علیحدہ کر دے- ججوں کے تقرر کے متعلق بھی ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے کیونکہ ملک کی عدالت پر حکومت کے اچھے یا برے ہونے کا بہت حد تک انحصار ہوتا ہے- اس لئے میری رائے تو یہی ہے کہ بہتر ہوگا کہ ججوں کے تقرر میں وزارت کا دخل بالکل نہ ہو بلکہ گورنر ہائیکورٹ سے مشورہ لے کر جج مقرر کیا کرے- اس کا طریق میرے نزدیک یہ ہونا چاہئے کہ جب کسی نئے جج کے مقرر کرنے کی ضرورت ہو تو گورنر ہائی کورٹ سے ہر آسامی کے لئے تین تین آدمیوں کا پینل طلب کرے- ہائی کورٹ اپنی کثرت رائے سے فی آسامی تین تین آدمی کے نام تجویز کر کے رپورٹ کرے اور گورنر ان میں سے جس کو پسند کرے کام پر مقرر کر دے- گورنر کو یہ بھی اختیار ہو کہ اگر اس کے نزدیک کسی قوم کو ہائی کورٹ میں اس کے حق سے کم نمائندگی حاصل ہو تو وہ سفارشات طلب کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو ہدایت دے کہ وہ اس دفعہ صرف فلاں جماعت کے افراد کے نام تجویز کرے- مزید شرط یہ بھی ہو کہ اگر کسی جج کو یہ خیال ہو کہ فلاں شخص خاص طور پر قابل ہے اور اس کا نام پیش نہیں کیا گیا تو وہ اختلافی نوٹ کی شکل میں اپنی رائے گورنر کے پاس بھجوا دے جسے اختیار ہو کہ استثنائی صورتوں میں ان رپورٹوں کو بھی انتخاب میں مدنظر رکھ لے- اسی طرح ایک اصلاح میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ایک وزارت عدالت قائم کی جائے اور عدالتوں کا تمام انتظامی کام اس کی وساطت سے ہو تا کہ ایگزیکٹو اور عدالت میں اختلاف نہ ہو- دوسرے بہت سے ممالک میں ایک عدالت کا وزیر ہوتا ہے چنانچہ انگلستان میں بھی لارڈ چانسلر کے نام سے ایک وزیر ہوتا ہے- جس کا کام عدالتی محکمہ کا انتظام ہے- وہ کونٹیکورٹ جج (COUNTY COURT JUDGE) نہ صرف مقرر کرتا ہے بلکہ انہیں ڈسمس (DISMIS) بھی کر سکتا ہے- ہائی کورٹ کے جج بھی اس کی سفارش پر مقرر ہو تی ہیں- ۶۲؎ سپریم کورٹ ہائی کورٹوں کو صوبہ جاتی کورٹ بنانے کے بعد علاوہ اس کانسٹی چیوشنل (CONSTITUTIONAL) سوال کے جس کا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں، دوسری ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی ضروری ہے کہ ایک سپریم کورٹ ہندوستان میں بنایا جائے جو فیڈرل کورٹ ہو- علاوہ قانون اساسی کے متعلق اختلافوں کا فیصلہ کرنے کے اس