انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 423

۴۲۳ منتخب ممبر ہوتے ہیں اور نہ مجلس قانون ساز کو ان پر کوئی تصرف حاصل ہوتا ہے پس دوسری مجلس دونوں حصوں میں تعلق قائم رکھنے کا کام دیتی ہے- چنانچہ امریکن (SENATE) کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ ایک طرف تو مجلس عام کے پاس شدہ قوانین کی نظر ثانی کرتی ہے دوسری طرف پریزیڈنٹ کو جو حکومت کے محکمہ تنفیذ کا رئیس ہے اس کے کام میں مشورہ دیتی ہے یعنی معاہدات کی منظوری کے متعلق سفیروں اور ججوں کے مقرر کرنے کے متعلق اور بعض ایسے ہی اور کاموں کے متعلق- (۱۰) دسواں فائدہ دوسری چیمبر کا جو فیڈرل حکومتوں میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے یہ ہے کہ دوسری چیمبر فیڈرل حکومت کے صوبوں یا ریاستوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے اور مجلس عام کو جو افراد کی نمائندہ ہوتی ہے ریاستوں کے حقوق تلف نہیں کرنے دیتی- اس وجہ سے فیڈرل حکومتوں میں عام طور پر دوسری مجلس کا انتخاب ایسے اصول پر رکھا جاتا ہے کہ وہ افراد کی بجائے علاقوں کی نمائندہ ہوں تا کہ علاقوں کی آزادی کا خیال رکھ سکیں- یہ دس موٹے موٹے فائدے سیکنڈ چیمبر (SECOND CHAMBER) کے ہیں- اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ بعض تو صرف خاص شکل کی دوسری مجلس میں پائے جا سکتے ہیں اور بعض ہر دوسری مجلس میں جمع ہو سکتے ہیں- ان فوائد کو مجموعی حیثیت سے دیکھنے کے بعد معلوم ہو سکتا ہے کہ دوسری چیمبر کا وجود بھی بغیر مقصد کے نہیں ہے- اور اس کے مخالفین کا اعتراض کہ اگر وہ مجلس عام کے موافق ہے تو غیر ضروری ہے اور اگر مخالف ہے تو موجب تباہی ہے محض ایک ظاہر فریب دلیل ہے- دوسری چیمبر نہ پہلی کے موافق ہے نہ مخالف بلکہ وہ اس کا تتمہ ہے اور اس وجہ سے نہ زائد ہے نہ کام کو خراب کرنے والی- مانٹیگوچیمسفورڈ سکیم میں دوسری چیمبر کے خلاف تین اعتراض کئے گئے ہیں- ایک یہ کہ اس سے کام پیچیدہ ہو جائے گا- دوسرے یہ کہ اس قدر لائق آدمی نہ مل سکیں گے کہ دو چیمبرس کا کام چلایا جا سکے- تیسرے یہ کہ خاص فوائد والوں کو غیر ضروری حفاظت حاصل ہو جائے گی- مگر یہ تینوں اعتراض درست نہیں- پیچیدگی اس میں کوئی ہے نہیں- سب دنیا میں دوسری چیمبرس کام کر رہی ہے- آدمیوں کا سوال عارضی ہے- اگر دوسری مجلس کی ضرورت ثابت ہو تو اس کا اجراء دس پندرہ سال بعد کیا جا سکتا ہے- اور تیسرا اعتراض بھی درست نہیں