انوارالعلوم (جلد 11) — Page 422
۴۲۲ (۷) اگر ایک ہی مجلس ہو تو چونکہ ملک کی رائے کا جلدی جلدی اندازہ لگانے کے لئے اسے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد برخواست کرنا پڑتا ہے- بعض تجربہ کار لوگ جن کے شامل کرنے کی بڑی غرض ان کی لیاقت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہوتا ہے لیکن ان کی مالیحالت زیادہ اچھی نہیں ہوتی وہ بار بار کے خرچ سے ڈر کر اس میں حصہ نہیں لے سکتے- لیکن دو مجالس ہوں تو دوسری چیمبر کی عمر کو لمبا کر کے ایسے لوگوں کے لئے خدمت کا موقع پیدا کیا جا سکتا ہے- علاوہ ازیں دوسری مجلس کی عمر کو لمبا کر کے یہ فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ ایک تجربہ کار جماعت دیر تک حکومت کے کام میں ممد رہتی ہے- (۸) ملک کی مختلف ضرورتیں ہوتی ہیں جن میں سے بعض بعض کے ساتھ مشترک نہیں ہو سکتیں- پس اگر ایک ہی جماعت ہو تو بعض فوائد ملک کے نظر انداز کرنے پڑتے ہیں- پس دو چیمبرس کا ہونا ضروری ہے کہ تا ایک مجلس کو ایک قسم کا کام سپرد کر دیا جائے اور دوسری کو دوسرا- جرمن ریچس ریٹ (REICHSRAT) یعنی دوسری مجلس کی یہی غرض رکھی گئی ہے کہ وہ وضع قانون میں حصہ نہیں لیتی بلکہ اس کی غرض صرف یہ ہے کہ وہ مسودات کو مجلس عام میں پیش ہونے سے پہلے دیکھ کر رائے دے کہ آیا وہ پیش کئے جائیں یا نہیں وہ مجلس عام یعنی ریچس ٹیگ (REICHSTAG) کے بنائے ہوئے قانون کو رد بھی نہیں کر سکتی بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ اس کے پاس شدہ مسودہ کو دیکھے اور اگر قابل اعتراض پائے تو دو ہفتہ کے اندر گورنمنٹ کو اس کی اطلاع دے- اگر مجلس عام سے اس کا سمجھوتہ ہو جائے تو خیر ورنہ پریذیڈنٹ اس مسودہ کے متعلق ملک کی رائے عامہ حاصل کر لے- لیکن اگر پریزیڈنٹ تین ماہ کے اندر ایسا نہ کرے اور مجلس عام دو تہائی کثرت کے ساتھ اس بل کو دوبارہ پاس کر دے تو پھر پریزیڈنٹ کا فرض ہے کہ یا تو اسی قانون کو منظور کرے یا ملک کی رائے حاصل کرے- یہ کام جو جرمن دوسری چیمبر (SECOND CHAMBER) کے سپرد ہے نہایت ضروری ہے لیکن باوجود اس کے قانون ساز مجلس کے سپرد کسی صورت میں نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہی مجلس جو قانون بناتی ہے اپنے کام کی نگرانی نہیں کر سکتی- (۹) ایک فائدہ دوسری مجالس میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ملکوں میں حکومت کے دونوں حصے یعنی قانون ساز اور قانون کا اجراء کرنے والے الگ الگ رکھے جاتے ہیں- یعنی وزراء نہ